Al-Risala · April 1987 · page 14

خاموشی ضروری ہے

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۱۴

خاموشی ضروری ہے

ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تو اس کو چاہیے کہ بھلی بات بولے ورنہ چپ رہے (من كان يومن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا اوليصمت)

حقیقت یہ ہے کہ چپ رہنا بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ بولنا۔ بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں جہاں بولنا انتہائی ضروری ہوتا ہے اس لیے اس شخص کو گونگا شیطان (شيطان اخرس) کہا گیا ہے جو بولنے کے موقع پر نہ بولے مگر اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں جب کہ چپ رہنا ہی زیادہ صحیح اور ضروری ہے۔

خاموشی کے ضروری ہونے کی ایک مثال غزوہ احد کا واقعہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہو گئے تھے اور ایک غار میں لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ تھے۔ یہاں تک کہ دشمنوں نے اعلان کر دیا کہ محمد قتل کر دیئے گئے۔ صحابہ پر سراسیمگی چھا گئی۔ اس دوران ایک صحابی کی نظر آپ پر پڑی۔ وہ بول پڑے کہ رسول اللہ یہاں ہیں۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بولے بغیر اشارہ سے ان کو منع کیا کہ چپ رہو (اشار اليه الرسول ان اصمت)۔ اس کی ایک مثال وہ حدیث ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر تم اپنے ساتھی سے کہو کہ چپ رہو، جب کہ امام خطبہ دے رہا ہو تو تم نے لغو فعل کیا (اذا قلت لصاحبك اسكت والامام يخطب فقد لغوت) انفرادی مجالس میں بھی خاموشی کا یہ اصول ضروری ہے۔ مگر جب معاملہ قوم کا ہو تو اس کی اہمیت لاکھوں گنا بڑھ جاتی ہے۔ کسی نازک موقع پر ایک رہنما کی خاموشی ایک بڑے فساد کو روکنے کا سبب بن جاتی ہے۔ اسی طرح ایک رہنما کی بے موقع تقریر ایک ایسا فساد برپا کر سکتی ہے جس میں سیکڑوں انسان مارے جائیں اور کروڑوں روپے کی جائیداد جلا کر خاک کر دی جائے ۔ اسی مفہوم میں سسٹر کنسولتا (Sister Consolata) نے کہا ہے کہ کسی قوم کی ناکامیوں کی سب سے زیادہ تعداد کا سبب خاموشی کے اصول کو توڑنا ہے :

The greatest number of failings in a community come from breaking the rule of silence.

‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues

Printed page