Al-Risala · April 1987 · page 20

ذہنی ارتکاز

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۲۰

ذہنی ارتکاز

چارلس ڈارون (۱۸۸۲۔ ۱۸۰۹) موجودہ زمانہ کا مشہور ترین مفکر ہے۔ اس کے نظریہ سے اگرچہ راقم الحروف کو اتفاق نہیں۔ تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ جدید انسان کی فکری تشکیل میں جتنا ڈارون کا حصہ ہے اتنا شاید کسی دوسرے مفکر کا نہیں ۔

ڈارون نے موجودہ دنیا میں یہ غیر معمولی مقام اپنی غیر معمولی محنت کے ذریعہ حاصل کیا۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴) کے مقالہ نگار نے اس کے حالات بتاتے ہوئے لکھا ہے: All his mental energy was focussed on his subject, and that was why poetry, pictures, and music ceased in his mature life to afford him the pleasure that they had given him in his earlier days (5/495). ڈارون کی تمام ذہنی طاقت اس کے موضوع پر وقف ہوگئی تھی ۔ اور یہی وجہ ہے کہ شاعری ، تصویر اور موسیقی اس کی بعد کی زندگی میں اس کو وہ خوشی نہ دے سکیں جو کہ اس کی ابتدائی زندگی میں انھوں نے اس کو دیا تھا ۔

یہ ذہنی ارتکاز کسی کام میں اعلیٰ کامیابی حاصل کرنے کے لیے انتہائی طور پر ضروری ہے، خواہ وہ صحیح کام ہو یا غلط کام ۔ آدمی جب تک اپنے مقصد میں اتنا زیادہ گم نہ ہو جائے کہ بقیہ تمام چیزیں اسے بھول جائیں کسی اور چیز میں اس کے لیے لذت باقی نہ رہے ، اس وقت تک وہ کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ تمام بڑے لوگوں نے اسی طرح کام کیا ہے۔ اس کے سوا اور کوئی بڑا کام کرنے کا طریقہ نہیں ۔

جب ایک آدمی کسی کام میں ہمہ تن مشغول ہوتا ہے تو اس وقت اس پر اس کام کے تمام چھپے ہوئے راز کھلتے ہیں ۔ اسی وقت وہ اس کام کے تمام ضروری پہلوؤں پر توجہ دینے کے قابل بنتا ہے ۔ اسی وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ اس کی تمام فطری صلاحیتیں اس کے مقصد کے حصول میں لگ جائیں ۔ یکسوئی اور لگن کے بغیر کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہوتی ۔ اکثر لوگ پوری یکسوئی کے ساتھ اپنا کام نہیں کرتے ۔ اسی لیے اکثر لوگ کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر پاتے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues

Printed page