یک طرفہ اقدام کی ضرورت
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۲۱
یک طرفہ اقدام کی ضرورت
صلح حدیبیہ (۶ھ) تاریخ اسلام کا مشہور واقعہ ہے۔ اس موقع پر مخالفینِ اسلام نے صلح کی جو شرطیں پیش کیں، ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بحث بغیر منظور کر لیا۔ یہ شرطیں سب کی سب مخالفین اسلام کے حق میں تھیں ۔ چنانچہ جو مسلمان آپ کے ساتھ تھے ان کی اکثریت پر یہ صلح بے حد شاق گزری۔ حتیٰ کہ بعض صحابہ یہ کہہ پڑے کہ کیا ہم حق پر یں ہیں۔ اور کیا فریقِ ثانی باطل پر نہیں ہے ۔ اگر ہم حق پر ہیں اور فریقِ ثانی باطل پر ہے تو ہم اس قسم کی ذلت آمیز شروط پر صلح کیوں کریں ۔
پیغمبرِ اسلام اور عام مسلمانوں کے درمیان رائے کا یہ فرق کیوں ہوا۔ اس کو ایک لفظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ پیغمبر اسلام مسئلہ کو یک طرفہ طور پر دیکھ رہے تھے اور عام مسلمان دوطرفہ طور پر ۔ عام مسلمانوں کا خیال تھا کہ کچھ ہم جھکیں اور کچھ وہ جھکیں ۔ کچھ شرطیں ہماری مانی جائیں کچھ شرطیں ان کی مانی جائیں۔ یعنی معاملہ کو دوطرفہ بنیاد پر طے کیا جائے ۔ جب کہ پیغمبرِ اسلام کا خیال تھا کہ ہم اس بحث کو نہ چھیڑیں کہ اس معاملہ میں کون حق پر ہے اور کون ناحق پر۔ اس بحث سے صرفِ نظر کرتے ہوئے ہم یک طرفہ طور پر فریق ثانی کی پیش کی ہوئی شرطوں پر راضی ہو جائیں ۔ مسلمانوں کی رائے خالص منطقی اعتبار سے بالکل درست تھی ۔ نظری انصاف کے اعتبار سے یقیناً یہی ہونا چاہیے تھا کہ دونوں میں سے کوئی فریق ضد نہ کرے، بلکہ اصولی بنیاد پر جو بات صحیح ہے اس پر دونوں فریق راضی ہو جائیں۔
مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم معاملہ کو عملی نقطہ نظر سے دیکھ رہے تھے۔ آپ جانتے تھے کہ اگر اصول اور منطق کی بنیاد پر اصرار کیا گیا تو فریقِ ثانی ہرگز راضی ہونے والا نہیں ہے ۔ اس لیے عملی اعتبار سے مسئلہ کا ممکن حل صرف یہ ہے کہ فریق ثانی کی شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان لیا جائے ۔ اس کا فوری فائدہ یہ ہوگا کہ دونوں فریقوں میں ٹکراؤ کی صورت حال ختم ہو جائے گی ۔ اور مسلمانوں کے کے لیے کام کے مواقع نکل آئیں گے ۔ دوطرفہ بنیاد پر اصرار عملاً دونوں فریقوں کے درمیان ٹکراؤ کو برقرار رکھنے کے ہم معنی تھا۔ جب کہ یک طرفہ بنیاد پر راضی نہ ہونے کا مطلب یہ تھا کہ جنگی ٹکراؤ ختم
‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues