Al-Risala · April 1987 · page 23

کم سمجھنا

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۲۳

کم سمجھنا

زندگی نام ہے نا خوشگوار یوں کو خوش گواری کے ساتھ قبول کرنے کا۔ تھیوڈور روز ویلٹ (Theodore Roosevelt) نے اسی بات کو ان الفاظ میں کہا کہ زندگی کا سامنا کرنے کا سب سے زیادہ ناقص طریقہ یہ ہے کہ حقارت کے ساتھ اس کا سامنا کیا جائے : The poorest way to face life is to face it with a sneer. اصل یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی شخص اکیلا نہیں۔ بلکہ اس کے ساتھ دوسرے بہت سے لوگ بھی یہاں زندگی کا موقع پائے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے منصوبة کے تحت ہر ایک کو اس کا سامان حیات دے رہا ہے۔ کسی کو ایک چیز، کسی کو دوسری چیز اور کسی کو تیسری چیز۔ ایسی حالت میں آدمی اگر دوسروں کو حقیر یا کم سمجھ لے تو وہ حقیقت پسندانہ نظر سے محروم ہو جائے گا۔ وہ نہ اپنے بارے میں صحیح رائے قائم کر سکے گا اور نہ دوسروں کے بارے میں۔

تاریخ انسانی میں جو سب سے بڑا جرم کیا گیا ہے وہ عدم اعتراف ہے۔ تاریخ کے ہر دور میں خدا کے نیک بندے حق کا پیغام لے کر اٹھے، انھوں نے لوگوں کو سچائی کی طرف بلایا۔ مگر ہمیشہ ایسا ہوا کہ ان کے مناطبین کی اکثریت نے ان کو نظر انداز کر دیا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہی تھی کہ انھوں نے ان سچے انسانوں کو حقیر سمجھ لیا، صرف اس لیے کہ ان کے آس پاس انھیں دنیا کی رونقیں نظر نہ آئیں، وہ ان کو تخت عظمت پر بیٹھے ہوئے دکھائی نہیں دیئے ۔ انھوں نے کہا کہ ہم ایک چھوٹے آدمی کے سامنے کیوں اپنے آپ کو جھکائیں ۔

یہی معاملہ قومی رویہ کا بھی ہے۔ اگر ہم ایک قوم کو حقیر سمجھ لیں تو اس کے بارے میں ہمارا پورا رویہ غلط ہو کر رہ جائے گا۔ ہم اس قوم کی اچھائیوں کو بھی برائی کے روپ میں دیکھنے لگیں گے، ہم اس قوم کی طاقت کا غلط اندازہ کریں گے اور اس سے ایسے مواقع پر غیر ضروری طور پر لڑ جائیں گے جہاں بہترین عقل مندی یہ تھی کہ اس سے اعراض کیا جائے ۔

دوسروں کو کم سمجھنا باعتبار نتیجہ خود اپنے آپ کو کم سمجھنا ہے۔ دوسروں کو حقیر سمجھنے کا آخری انجام صرف یہ ہے کہ آدمی خود دوسروں کی نظر میں حقیر ہو کر رہ جائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues

Printed page