Al-Risala · April 1987 · page 24

با معنی کائنات

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۲۴

با معنی کائنات

اندازہ کیا گیا ہے کہ ہماری قریبی کہکشاں ایک لاکھ سال نور کی وسعت میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس کہکشاں کے اندر تین لاکھ ملین ستارے پائے جاتے ہیں ۔ ہمارا شمسی نظام اس کے مرکز سے ۲۷ ہزار سال نور کے فاصلہ پر واقع ہے۔ کہکشاں کے اکثر ستارے ممکن طور پر کسی نہ کسی قسم کا سیاروں کا سلسلہ رکھتے ہیں۔ مگر ان میں سے اکثر سیارے زندگی کے لیے غیر موزوں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے ستارہ سے یا تو بہت زیادہ قریب ہیں یا بہت زیادہ دور ہیں۔ تاہم چوں کہ ستاروں کی تعداد بہت زیادہ ہے ، خالص حسابی اعتبار سے یہ امکان ہے کہ بہت سے سورج جیسے ستارے ہوں اور اسی طرح بہت سے زمین جیسے سیارے :

تاہم بے شمار سیار آتی نظاموں میں صرف ایک ہی سیار اتی نظام ہے جس میں انسان جیسی زندہ مخلوق آباد ہو سکتی ہے۔ اور وہ وہی نظام ہے جس میں ہماری زمین واقع ہے۔ اس قسم کا کوئی اور سیاراتی نظام ابھی تک ساری کائنات میں معلوم نہ کیا جا سکا۔ موجودہ زمانہ میں سائنس کا ایک مستقل شعبہ وجود میں آیا ہے جس کو ایس ای ٹی آئی (SETI) کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے ـــــــــ بالائے خلا ذہانت کی تلاش :

زندگی کے ارتقائی نظریہ کے تحت سائنس دانوں کا گمان ہے کہ کائنات کے دوسرے مقامات پر بھی انسان جیسی ذہین مخلوق ہونی چاہیے۔ کیوں کہ ارتقائی عمل عموم چاہتا ہے ، ارتقائی عمل میں استثناء کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اس فرضی قیاس پر جدید انسان کو اتنا زیادہ یقین ہے کہ ایک سائنسی مصنف اسحاق ایسمو

‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues

Printed page