یہ فرق کیوں
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۴۶
میں ہمیشہ یہ سوچتی تھی کہ آپ کو خط ارسال کروں ، اب جب کہ میں نے آپ کی کتاب زلزلہ قیامت پڑھی تو میرا قلم آپ کو یہ خط لکھنے پر مجبور ہو گیا ۔ (کنیز فاطمہ) ایک صاحب جدہ سے لکھتے ہیں ، "ہم سوئے ہوئے مسلمانوں کو جگانے کے لیے الرسالہ جیسے ہی ایک پرچہ کی ضرورت تھی ۔ آپ کی تحریریں دل کے تاروں کو چھولیتی ہیں۔ آپ عصری اسلوب میں اسلام کے تعلق سے اتنے سائنٹفک مضامین کس طرح لکھتے ہیں۔ جب مجھے الرسالہ ملتا ہے ، اس کے دوسرے گھنٹہ میں ہی سارا رسالہ ختم ہو جاتا ہے ۔ پھر غور و فکر کے لیے بار بار پڑھتا ہوں ۔ آپ کے اس مختصر پرچہ میں ایسی غیر معمولی مقناطیسی طاقت ہے کہ جو ایک مرتبہ پڑھ لیتا ہے پھر اس کا دیوانہ ہو جاتا ہے ۔ جب میں نے پہلی مرتبہ اس پرچہ کو جدہ میں ایک دوست کے پاس دیکھا ، اس کے دوسرے دن میں اس کا مستقل خریدار بن گیا ۔ جو بھی میرے پاس سے پرچہ لے کر جاتا ہے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آئندہ سال کے لیے میں اپنی خریداری کی تجدید کے ساتھ دو نئے ممبر بھیج رہا ہوں جو اس پرچہ سے اور آپ کی حکمت و نصیحت سے ، بھر پور تحریروں سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے ۔ آپ کے پرچہ سے یہاں بہت سارے لوگ متاثر ہیں اور میرے پاس سے لے کر مطالعہ کرتے ہیں (۲۸ دسمبر ۱۹۸۶)
ایک صاحب سعودی عرب سے لکھتے ہیں : تذکیر القرآن کی دوسری جلد کی سخت ضرورت ہے ۔ تذکیر القرآن کی پہلی جلد ہم چند لوگ یہاں روزانہ عشاء کی نماز کے بعد پڑھتے ہیں ۔ اور کافی اثر قبول کرتے ہیں ۔ سب ہی یہ محسوس کرتے ہیں کہ تذکیر القرآن واقعی تذکیر القرآن ہے ۔ مختصر اور کھلے الفاظ میں ہمیں قرآن کا بنیادی مطلب مل جاتا ہے۔ (۲۱ فروری ۱۹۸۷)
اسلامی مرکز کے مشن کے خلاف حال میں کچھ لوگوں نے بے بنیاد مضامین شائع کیے ہیں ۔ اس سلسلہ میں ایک خط کا جواب دیتے ہوئے صدر اسلامی مرکز نے کہا کہ یہ بالکل لغو باتیں ہیں اور لغو کے بارہ میں ہمیں اعراض کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ ان کا بہترین جواب یہ ہے کہ ان کا کوئی جواب نہ دیا جائے ۔ جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues