الدعوة (رياض) ۲۳ فروری ١٩٨٧ ، صفحہ ۲۹
الرسالہ، مئی ۱۹۸۷، صفحہ ۴۴
غلط فہمی
ایک عورت امام اوزاعی کی بیوی کے پاس آئی۔ اس نے گھر کی چٹائی کو چھوا تو وہ بھیگی ہوئی تھی۔ عورت نے کہا کہ شاید بچہ نے یہاں پیشاب کر دیا ہے۔ امام اوزاعی کی بیوی نے کہا کہ نہیں، یہ دراصل امام اوزاعی کے آنسو ہیں۔ ہر صبح کو وہ ایسا ہی کرتے ہیں :
دخلت امرأة على زوجة الأوزاعي فلمست الحصير فاذ اهومبتل فقالت : لعل الصبي بال هنا فقالت زوجة الأوزاعي انماهي دموع الشيخ كل صباح يفعل هكذا۔
الدعوة (رياض) ۲۳ فروری ١٩٨٧ ، صفحہ ۲۹
عورت نے چٹائی کے بھیگنے کا جو سبب سمجھا وہ صرف اس کے اپنے ذہن کی پیداوار تھا۔ خارج میں اس سبب کا کوئی وجود نہ تھا۔ یہ عورت کے سمجھنے کی غلطی تھی نہ کہ صورت حال کی واقعی تشریح۔ عورت بذات خود یہ سمجھ رہی تھی کہ اس نے جان لیا ہے ، حالاں کہ اس نے کچھ نہیں جانا تھا۔ اس نے اپنی لاعلمی کو علم قرار دے لیا۔ اس نے محض ذاتی خیال کے تحت ایک رائے قائم کرلی۔ حالانکہ صحیح رائے وہ ہے جو تمام متعلقہ حقائق کا جائزہ لینے کے بعد قائم کی جائے ۔ اکثر حالات میں آدمی اپنی ذہنی سطح کے مطابق رائے قائم کرتا ہے۔ عورت کی ذہنی سطح وہی تھی جس کا اظہار اس کے سوال میں ہوا ۔ اس نے اپنا یہ سوال کسی بری نیت سے نہیں کیا۔ اور نہ وہ جھوٹ بولی ۔ اس کے باوجود وہ مکمل طور پر غلطی پر تھی۔ اس کی غلطی کی سادہ سی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر سوچ نہ سکی ۔ اپنی روزانہ کی زندگی میں وہ جس چیز کا تجربہ کر رہی تھی ، اسی پر اس نے دوسرے کے معاملہ کو بھی قیاس کر لیا۔ جس چیز سے وہ خود دوچار تھی اسی کو اس نے دوسرے کی طرف منسوب کر دیا۔
یہ مثال بتاتی ہے کہ آدمی کو دوسرے کے متعلق رائے قائم کرنے میں حد درجہ محتاط ہونا چاہیے۔ عین ممکن ہے کہ وہ " دموع الشيخ " کو " بول الصبی " سمجھ لے۔ جو واقعہ اپنے اندر ایک بندے کے خوف خدا کی کہانی لیے ہوئے ہے ، نادانی کی بنا پر وہ اس کو دنیا پرستی کا نتیجہ قرار دے بیٹھے ۔ جو واقعہ آخرت کی یاد دلانے والا ہے وہ اس کے ذہن میں صرف دنیا کی یاد دلانے والا بن جائے۔