روزانہ دس لفظ
الرسالہ، مئی ۱۹۸۷، صفحہ ۵
روزانہ دس لفظ
مولوی لطف اللہ ایک معمولی ٹیؤٹر تھے۔ وہ ۱۸۰۲ء میں مالوہ کے قدیم شہر دھار نگر میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے کسی انگریزی درس گاہ میں ایک دن بھی نہیں پڑھا مگر ان کی خود نوشت انگریزی سوانح عمری ۱۸۵۷ میں لندن سے چھپی۔ لندن کے پبلشر اسمته ایلڈرا اینڈ کمپنی نے اس کا نام یہ رکھا :
Autobiography of Lutfullah: A Mohammedan Gentleman اس کتاب کے ساتھ ایک انگریز سٹریایٹ ویک کا دیباچہ شامل ہے۔ انھوں نے دیباچہ میں مصنف کی صحیح انگریزی کی تعریف کی ہے۔ انھوں نے اس پر تعجب کا اظہار کیا ہے کہ ایک ہندستانی نے بدیسی زبان میں اتنی ضخیم کتاب کس طرح لکھی۔
مولوی لطف اللہ نے یہ صلاحیت کیسے پیدا کی کہ وہ انگریزی میں ایک ایسی کتاب لکھیں جو لندن سے چھپے اور انگریز ادیب اس کی زبان کی تعریف کرے، اس کار از صرف چار حرف کا ایک لفظ ہے اور یہ وہی لفظ ہے جس کو اردو زبان میں محنت کہتے ہیں ۔
مولوی لطف اللہ نے انگریزی زبان صرف اپنی محنت سے سیکھی۔ وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے انگریز ملازموں کو ہندوستانی، فارسی اور مہر ہٹی زبانیں سکھاتے تھے۔ ان کے انگریز شاگردوں کی تعداد سو سے اوپر تھی۔ انگریزوں سے تعلق کے نتیجہ میں ان کے اندر انگریزی زبان سیکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ انھوں نے ذاتی مطالعہ سے انگریزی زبان پڑھنا شروع کیا۔ اور آٹھ سال کی لگا تار محنت کے نتیجہ میں اس پر پوری طرح قدرت حاصل کر لی۔ انھوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اس آٹھ سال کی مدت میں " کوئی ایک رات ایسی نہیں گزری جب کہ سونے سے پہلے میں نے انگریزی کے دس لفظ یاد نہ کیے ہوں اور ڈاکٹر گل کرسٹ کی قواعد کی کتابوں کے چند صفحے توجہ سے پڑھ کر ذہن میں محفوظ نہ کیے ہوں " " دس لفظ " بظاہر بہت کم معلوم ہوتے ہیں۔ مگر دس لفظ روزانہ کی رفتار کو جب آٹھ سال تک پھیلا دیا جائے تو وہ ایک شخص کو غیر زبان کا ایسا ادیب بنا دیتے ہیں کہ اہلِ زبان بھی اس کی زبان دانی کا اعتراف کریں۔