بے مسئلہ انسان
الرسالہ، مئی ۱۹۸۷، صفحہ ۷
بے مسئلہ انسان
۵ ستمبر ۱۹۸۶ کو کراچی ائیر پورٹ پر ہائی جیکنگ کا واقعہ ہوا۔ یہ پان ایم کا جہاز تھا۔ اس حادثہ میں جو لوگ مارے گئے ان میں سے ایک ۲۴ سالہ خاتون نیرجا بھانوٹ (Neerja Bhanot) بھی تھی۔ وہ اس امریکی ہوائی کمپنی میں سینئر فلائٹ پرسر (Senior purser) تھی۔ اس حادثہ کے بعد اس کے باپ ہریش بھانو ت نے ایک مفصل یاد داشت لکھی جو ہندوستان ٹائمس (۵ اکتوبر ۱۹۸۶) میں شائع ہوئی ۔ اس یاد داشت میں مسٹر ہریش بھانوٹ نے اپنی لڑکی کے بارے میں جو باتیں لکھی تھیں ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ نیر جا اول دن سے بے مسئلہ لڑکی تھی :
Neerja was a no-problem child, right from day one. عام طور پر چھوٹے بچے گھر کے اندر مسئلہ بنے رہتے ہیں۔ وہ طرح طرح سے اپنے ماں باپ کو پریشان کرتے ہیں۔ اس لیے ایسے بچہ کو بے مسئلہ بچہ (No problem child) کہا جاتا ہے جو ہر حال میں مطمئن رہے اور کسی بھی بات پر گھر والوں کے لیے مسئلہ پیدا نہ کرے ۔ سب سے بہتر بچہ بے مسئلہ بچہ ہے۔ یہی بات بڑوں کے لیے بھی صحیح ہے۔ وہ آدمی سب سے زیادہ قیمتی ہے جو بے مسئلہ ہو۔ جو دوسروں کے لیے مسائل پیدا کیے بغیر دوسروں کے ساتھ رہ سکے ۔ اس دنیا میں ذاتی شکایت کا پیدا ہونا لازمی ہے، اس لیے قابلِ عمل صورت صرف یہ ہے کہ آدمی خود اپنے آپ کو بے شکایت بنالے۔
یہ انسانی خصوصیت عام زندگی کے لیے بھی نہایت ضروری ہے، اور تحریکوں کے لیے تو وہ لازمی ضرورت کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس دنیا میں وہی تحریک کامیاب ہوتی ہے جو اپنے گرد ایسے افراد کو جمع کر سکے جو مسائل پیدا کرنے والے نہ ہوں۔ جو مسائل سے بھری ہوئی دنیا میں ایسے بن جائیں گویا دوسروں کی نسبت سے ان کا کوئی مسئلہ ہی نہیں ۔
جو شخص بے مسئلہ ہو وہی دوسروں کے مسائل کو حل کرتا ہے ۔ جو لوگ خود مسائل میں مبتلا ہو جائیں وہ صرف دنیا کے مسائل میں اضافہ کریں گے، وہ کسی بھی درجہ میں دنیا کے مسائل کو حل نہیں کر سکتے۔