روحیں منتظر ہیں
الرسالہ، مئی ۱۹۸۷، صفحہ ۸
روحیں منتظر ہیں
کریٹ (Crete) یونان کا ایک جزیرہ ہے۔ یہاں ۱۶۶۹ میں ترکوں کا قبضہ ہوا۔ اس کے بعد یونانیوں اور ترکوں کے درمیان کئی لڑائیاں ہوئیں۔ آخر کار ۱۸۹۸ میں کریٹ سے ترک اقتدار کا خاتمہ ہو گیا۔ اس بنا پر ترکوں کی تاریخ میں کریٹ کے واقعات کا تذکرہ بھی لازمی طور پر شامل رہتا ہے۔
محمد حفیظ اللہ قریشی مرحوم نے ۱۹۲۲ میں لاہور سے ایک کتاب شائع کی تھی جس کا نام تھا " تاریخ سلاطین آل عثمان "۔ ڈھائی سو صفحہ کی اس کتاب میں خاںدان عثمانیہ (ترکوں) کے حالات بیان کیے گیے ہیں۔ اس میں سلطنت عثمانیہ کی ابتدا سے لے کر سلطان عبد المجید ثانی کی معزولی تک کے حالات مختصر طور پر درج ہیں ۔ کریٹ کے ساتھ ترکوں کی جنگ کے حالات لکھتے ہوئے کتاب میں بتایا گیا ہے :
۱۰۶۶ ھ میں بند قیہ والوں کا ایک عیسائی امیر البحر مع ۳۰ سپاہیوں کے سلطان محمد خان رابع (۱۰۹۹ - ۱۰۵۹ ھ) سے آملا۔ اور آستانہ (ترکی) میں آکر اس نے صدق دل سے مذہب اسلام قبول کر لیا ۔ چنانچہ سلطان نے اس کی قدر افزائی کی۔ اور اس کو کارخانہ جہاز سازی کا نگراں بنا دیا۔ اس نے اپنی حسن کارگزاری سے سلطان کو ہی خوش نہیں کیا بلکہ اسلام کی بے حد خدمت بجا لایا اور اپنے گزشتہ گناہوں کی تلافی مافات کر دی۔ (صفحہ ۱۰۶ - ۱۰۵)
اسلامی تاریخ میں اس طرح کے واقعات بہت ملتے ہیں کہ عین جنگ کے زمانہ میں دشمن کے افراد نے اسلام قبول کر لیا ۔ وہ عین ہنگامہ کارزار میں دشمن کی صف کو چھوڑ کر اہل اسلام کی صف میں شامل ہو گئے ۔ ان واقعات سے اسلام کی تسخیری طاقت کا اندازہ ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام فطرت کا دین ہے۔ وہ اپنے اندر ہر آدمی کے لیے بے پناہ کشش رکھتا ہے۔ ہر آدمی کے دل میں اسلام کی طلب چھپی ہوئی ہے۔ ہر روح اس انتظار میں ہے کہ کب موقع ملے اور وہ خدا کی ابدی دنیا میں داخل ہو جائے۔ اسلام کی یہ تسخیری طاقت اتنی زبردست ہے کہ جنگ بھی اس کے لیے رکاوٹ نہیں۔ عداوت کی فضا بھی اس کی راہ میں حائل نہیں۔