حسد کے نقصانات
الرسالہ، مئی ۱۹۸۷، صفحہ ۱۰
رقبہ کو ایسی حدود تک پہنچایا جو پہلے حکمراں یوں کے زمانہ میں کبھی نہیں پہنچا تھا۔ محمود گواں اس قدر محنت کا عادی تھا کہ وہ اپنا ایک لمحہ بھی ضائع نہ کرتا۔ اپنی ضرورتیں اس نے بہت محدود کرلی تھیں ۔ چٹائی پر سوتا، مٹی کے برتن میں کھانا کھاتا اور نہایت سادہ زندگی گزارتا۔ اس کے ذاتی کتب خانہ میں تین ہزار کتابیں تھیں۔ اس نے بہمنی سلطنت کی راجدھانی بیدر میں ایک مدرسہ قائم کیا اور اپنی تمام کتابیں وہاں بھیج دیں۔ مدرسہ کی عمارت کے آثار اب بھی بیدر میں موجود ہیں۔ اس کے زمانہ میں بہمنی سلطنت کو بہت ترقی ہوئی ۔
محمود گواں کے زمانہ میں بہمنی تخت پر محمد شاہ سوم تھا۔ یہ بادشاہ نہایت آرام طلب اور ناکارہ تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سلطنت کا سارا انتظام عملاً محمود گواں کے ہاتھ میں آگیا۔ محمود گواں نے اس اقتدار کا کبھی ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا۔ پھر بھی دربار کے امراءاس کے قوت و اثر کو دیکھ کر اس سے جلنے لگے ۔ انھوں نے خفیہ طریقہ سے محمود گواں کی سرکاری مہر حاصل کر لی۔ اس کے بعد ایک جعلی خط اس کی مہر کے ساتھ تیار کیا جو وجے نگر کے راجہ رائے نر سنگھ کے نام لکھا گیا تھا۔ یہ فرضی خط انھوں نے بادشاہ کو دکھایا اور کہا کہ وزیر غدار ہے۔ وہ بادشاہ کو تخت سے بے دخل کرنے کے لیے وجے نگر کے راجہ کے ساتھ ساز باز کر رہا ہے ۔
بادشاہ امیروں کے دھوکے میں آگیا۔ اس نے ۵ اپریل ۱۴۸۱ء کو اس لائق وزیر کو قتل کرا دیا۔ بعد کو بادشاہ کو پتہ چلا کہ اس نے غلطی کی ہے ، اس کو بے حد صدمہ ہوا، یہاں تک کہ وہ خود بھی ایک سال کے اندر ۱۲ مارچ ۱۴۸۲ء کو مرگیا۔
محمود گواں کے خلاف اس شرمناک سازش کا اصل دماغ ملک نائب تھا۔ مگر محمود گواں کے بعد اس کو بھی چین نصیب نہ ہوسکا۔ اب دربار میں اس کے مخالفین پیدا ہو گئے ۔ دوبارہ اس کے خلاف بھی سازش ہوئی اور ۱۴۸۶ء میں ملک نائب کو بے دردی کے ساتھ قتل کر دیا گیا۔ مقتول کے خاتمہ کے صرف پانچ سال بعد خود قاتل کا بھی ذلت کے ساتھ خاتمہ ہوگیا۔
محمود گواں کے قتل کے بعد بہمنی سلطنت دوبارہ سنبھل نہ سکی ۔ ۱۵۲۴ء میں اس کے آخری حکمراں کی وفات کے ساتھ بہمنی سلطنت کا بھی خاتمہ ہوگیا۔ اس کے بعد اس علاقہ میں بغاوتیں ہوئیں اور ایک سلطنت پانچ الگ الگ سلطنت میں تقسیم ہوگئی۔