Al-Risala · May 1987 · page 9

حسد کے نقصانات

الرسالہ، مئی ۱۹۸۷، صفحہ ۹

حسد کے نقصانات

بہمنی سلطنت ۱۳۴۷ء میں سلطان محمد بن تغلق سے بغاوت کر کے قائم ہوئی۔ اس کا بانی حسن گنگو تھا۔ حسن کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے قدیم بادشاہ بہمن کی اولاد سے ہے ۔ اس بنا پر اس کا خاندان بہمنی خاندان کہا جاتا ہے۔

حسن گنگو نے گلبرگہ کو اپنی راجدھانی قرار دیا اور اپنی سلطنت کے حدود کو بڑھانا شروع کیا۔ ۱۳۵۹ء میں حسن گنگو کی وفات ہوئی۔ اس کے بعد اس کا جانشین احمد شاہ بہمنی ہوا۔ اس نے شہر بیدر بسایا اور گلبرگہ کے بجائے بیدر کو اپنی راجدھانی قرار دیا۔ دکن کی یہ بہمنی سلطنت ۱۸۰ سال تک رہی اور ۱۵۲۷ء میں ختم ہوگئی۔ اس سلطنت کا وزیر ۱۴۶۳ء سے لے کر ۱۴۸۱ء تک محمود گواں تھا۔ اس کا زمانہ بہمنی سلطنت کا سب سے زیادہ کامیاب زمانہ ہے ۔ اس نے سلطنت کو مزید وسیع کیا اور اپنے تدبر سے اس کو نہایت مستحکم کیا۔ مورخین نے بالاتفاق اس کی اعلیٰ لیاقت کا اعتراف کیا ہے۔ ایک مورخ نے لکھا ہے کہ " محمود گواں تاریخ ہند کے بہترین مدبروں اور منتظموں میں شمار کیا جاتا ہے" انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴ء) کے مقالہ نگار نے اس کی بابت یہ الفاظ لکھے ہیں :

The most notable personality of the period, a leading administrator (9/372). (اس عہد کی سب سے زیادہ ممتاز شخصیت ، ایک اعلیٰ انتظام کار) این ایڈوانسڈ ہسٹری آف انڈیا (۱۹۸۷ء) کے مصنفین نے ان الفاظ میں اس کے اخلاص کا اعتراف کیا ہے : Though possessed of wide powers, Mahmud Gawan never abused his authority. By virtue of his skilful diplomacy and successful military operations, he brought the dominions of the Bahmanis to an extent never achieved by former sovereigns. An Advanced History of India (1987) p. 354 اگر چہ محمود گواں کو نہایت وسیع اختیارات حاصل تھے مگر اس نے کبھی اپنے اختیار کا بے جا استعمال نہیں کیا۔ اپنی ماہرانہ سیاست اور اپنے کامیاب فوجی اقدامات کے ذریعہ اس نے بہمنی سلطنت کے

‹ Previous page Next page › Contents of May 1987 All issues

Printed page