Al-Risala · May 1987 · page 12

یقینی حل

الرسالہ، مئی ۱۹۸۷، صفحہ ۱۲

سماجی حادثات سے بچ سکتے ہیں ، شرط یہ ہے کہ آپ یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو اس کا ذمہ دار بنالیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دنیا میں مسائل کا سب سے زیادہ یقینی حل وہی ہے جس پر مذکورہ ڈرائیور نے عمل کیا اور اپنی ڈرائیونگ کی طویل زندگی میں حادثات سے مکمل طور پر محفوظ رہا۔

خالص طبی معنوں میں پاگل انسانوں کی تعداد ساری دنیا میں بمشکل ایک فیصد ہوگی مگر دوسرے اعتبار سے دنیا کے ۹۹ فیصد انسان امکانی طور پر پاگل ہیں۔ عام حالات میں بظاہر لوگ بالکل ٹھیک نظر آتے ہیں ۔ مگر جب آدمی کے ذاتی مفاد کا معاملہ آجائے ، جب اس کی انا کو ٹھیس لگے ۔ جب فریق ثانی کی کسی بات پر اس کے اندر غصہ بھڑک اٹھے۔ جب اس کا سابقہ کسی ایسے شخص سے پڑے جس سے اس کی ان بن ہو گئی ہو، تو اس وقت شریف آدمی بھی غیر شریف بن جاتا ہے ۔ صحیح دماغ کا انسان بھی پاگل پن پر اتر آتا ہے۔ یہ موجودہ دنیا کی عام حالت ہے ۔ اور یہ حالت اس وقت تک باقی رہے گی جب تک دنیا اپنے موجودہ قوانین کے ساتھ باقی ہے ۔ ایسی حالت میں مسئلہ کا حل صرف ایک ہے ۔ اور وہ وہی ہے جس کی طرف مذکورہ ڈرائیور نے اشارہ کیا۔

ایک بار حیدر آباد سے محبوب نگر جاتے ہوئے میرے ساتھ ایک سبق آموز واقعہ پیش آیا ۔ ہماری گاڑی تیزی سے سڑک پر دوڑ رہی تھی کہ اچانک ایک بیل سڑک پر آگیا۔ جو صاحب کار کو چلا رہے تھے انھوں نے یہ نہیں کیا کہ بیل کے خلاف احتجاج کریں یا بدستور اپنی گاڑی دوڑاتے رہیں ۔ انھوں نے فوراً بریک لگا کر گاڑی کو روکا۔ اور ایک لمحہ رک کر اندازہ کیا کہ بیل کدھر جارہا ہے ۔ بیل نے جب سڑک کے آدھے سے زیادہ حصہ پار کر لیا اور یہ واضح ہو گیا کہ وہ مشرق کی طرف جارہا ہے تو انھوں نے اپنی گاڑی مغرب کی طرف گھمائی اور بیل کے کنارے کی طرف سے راستہ نکال کر آگے کے لیے روانہ ہو گئے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1987 All issues

Printed page