Al-Risala · May 1987 · page 14

تاریخ کا ایک صفحہ

الرسالہ، مئی ۱۹۸۷، صفحہ ۱۴

تاریخ کا ایک صفحہ

چودھویں صدی عیسوی میں دو بڑے مسلم حکمراں تھے ۔ ایک تیمور لنگ (١٣٣۶-١۴٠۵) اور دوسرا بایزید اول (١٣٨۹-١۴٠٢) ۔ تیمور لنگ سمرقند (وسط ایشیا) میں پیدا ہوا۔ وہ چنگیز خاں کے خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ بایزید اول اناتولیہ (ترکی) میں پیدا ہوا۔ اس کا دار السلطنت ایڈریانویل تھا۔

ان دونوں مسلم حکمرانوں کے درمیان ایک نہایت ہولناک جنگ ہوئی جس کو تاریخ میں جنگ انگورہ (Battle of Angora) کہا جاتا ہے۔ انگورہ موجودہ انقرہ کا انگریزی نام ہے۔ تیمور نے چاہا کہ وہ بایزید کی سلطنت کے ایشیائی علاقہ پر قبضہ کرلے ۔ یہاں سے دونوں میں اختلافات پیدا ہوئے ۔ دونوں ایک دوسرے کے خلاف کارروائی کرنے لگے۔ بایزید نے تیمور کے دشمنوں کو اپنے یہاں پناہ دی۔ تیمور نے بایزید کے دشمنوں سے تعلق قائم کیا ، وغیرہ ۔

اس قسم کی کارروائیاں ہوتی رہیں۔ یہاں تک کہ جولائی ۱۴٠٢ء میں انگورہ (انقرہ) کے مقام پر دونوں کی فوجیں ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں۔ دونوں طرف نہایت بہادر لوگ تھے ۔ چنانچہ دونوں کے درمیان سخت ہولناک لڑائی ہوئی ۔ ایک مورخ کے الفاظ میں گویا دو پہاڑ آپس میں ٹکرا گئے ۔ دونوں طرف کے تقریبا ڈیڑھ لاکھ آدمی مارے گئے ۔ آخر کار بایزید کو شکست ہوئی ۔ وہ گرفتار ہوا اور اسی حالت میں اس کا انتقال ہو گیا ۔

چودھویں صدی عیسوی میں ساری دنیا میں تیمور اور بایزید کے برابر کوئی طاقتور بادشاہ موجود نہ تھا۔ ان دونوں کے درمیان جنگ چھڑی تو عالم یہ تھا کہ دور تک خون اور لاشوں کے سوا اور کچھ نظر نہ آتا تھا ۔ اس ہولناک جنگ کے سلسلہ میں کچھ لوگ تیمور کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور کچھ لوگ بایزید کو۔ تاہم ذمہ دار جو بھی ہو، نتیجہ بہرحال ایک تھا ۔ وہ یہ کہ اس لڑائی سے عالمِ اسلام کو شدید ترین نقصان پہنچا۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یورپ جو عثمانی ترکوں کے ذریعہ اسلامی بر اعظم بننے جا رہا تھا، وہ اس باہمی جنگ کے نتیجہ میں عیسائی بر اعظم بن کر رہ گیا ۔

جنگ کا فیصلہ ٢٠ جولائی ۱۴٠٢ء کو ہوا۔ بایزید گرفتار ہو گیا۔ تیمور نے اس کو ایک لوہے کے

‹ Previous page Next page › Contents of May 1987 All issues

Printed page