شراب اور ترقی میں تضاد
الرسالہ، مئی ۱۹۸۷، صفحہ ۱۷
کے ذریعہ ہونے والے حادثات میں مرجاتے ہیں ۔ اس نے بتایا کہ ایک ملین امریکی حادثات میں مرنے سے بچ جاتے ہیں وہ بھی ہمیشہ کے لیے ناقابل کار ہوکر رہ جاتے ہیں ۔ امریکہ میں ہر روز ۷۰ آدمى سڑک کے حادثات میں مرتے ہیں یعنی ہر ۲۰ منٹ میں ایک آدمی ۔ اس قسم کی بے شمار باتوں سے کینیڈی لائٹنر نے امریکی عوام کو بوکھلا دیا ۔ یہاں تک کہ خود امریکی حکومت حرکت میں آگئی ۔ ۱۷ جولائی ۱۹۸۴ کو صدر ریگن نے شراب پی کر گاڑی چلانے کے خلاف ایک قانون پر دستخط کر دیے ۔
اس مسئلہ کی تفصیلی معلومات دیتے ہوئے ایک امریکی میگزین 1986 Span, September نے لکھا ہے کہ ۲۰ ویں صدی تک شراب نوشی امریکہ میں نسبتاً چھوٹا سماجی مسئلہ تھی ۔ کیوں کہ شراب پینے والے شاذونادر ہی اس پوزیشن میں ہوتے تھے کہ وہ اپنے آپ کے سوا کسی اور کو کوئی سخت نقصان پہنچا سکیں ۔ شراب پینے والے اس سے پہلے زیادہ سے زیادہ شراب خانہ میں چیختے چلاتے تھے یا گھر کے اندر جھگڑا برپا کرتے تھے یا گھوڑا گاڑی دوڑاتے ہوئے اس کو الٹ دیتے تھے ۔ اس وقت ایک شراب نوش زیادہ تر رحم کا مستحق سمجھا جاتا تھا نہ کہ نفرت کا ۔ وہ یقینی طور پر ایسا مسئلہ نہ تھا جو حکومت کے لیے قابل توجہ ہو ۔ مگر موٹروں کی ایجاد نے شراب نوشی کو ہر اس آدمی کے لیے خطرہ بنا دیا جو سڑک پر سفر کرنا چاہتا ہو : Until the 20th century, drunkenness was a relatively minor social problem in the United States, because drunkards were rarely in any position to cause serious damage to anyone, but themselves. Drinkers might brawl in the bars and public houses, or cause family strife, or upset an applecart on a wild horseback ride through town, but for the most part a chronic drinker was more to be pitied than scorned, and certainly was not cause for government concern. With the introduc- tion of the automobile, however, the drunkard became a menace to everyone within reach of his desire to travel. شراب نہ پینا مذہب کی علامت ہے اور شراب پینا لامذہبیت کی علامت ۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو مذکورہ مثال یہ ثابت کرتی ہے کہ لامذہبیت اور ترقی دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں ۔ مذہب کے مخالفین یہ کہتے رہے ہیں کہ مذہب اور ترقی دونوں ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ لامذہبیت ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے نہ کہ مذہبیت ۔