شراب اور ترقی میں تضاد
الرسالہ، مئی ۱۹۸۷، صفحہ ۱۸
۳۰ مارچ ۱۹۸۱ کو صدر امریکہ رولڈ ریگن پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ وہ زخمی ہوئے تاہم ہلاک ہونے سے بچ گئے۔ تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ قاتل شراب پئے ہوئے تھا۔ مزید تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ شراب اور جرم میں بہت گہرا ربط ہے ۔ اکثر مجرم شراب پی کر مجرمانہ فعل کرتے ہیں۔ انسان کا اندرونی ضمیر ، اور جرم کے بعد قانون کی پکڑ کا اندیشہ آدمی کو جرم سے روکتا ہے۔ اس لیے منصوبے کے تحت جرم کرنے والے لوگ ہمیشہ شراب پی کر مجرمانہ اقدام کرتے ہیں، شراب آدمی کے نازک احساسات کو وقتی طور پر دبا دیتی ہے، اس طرح آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ بے خوف ہو کر مجرمانہ اقدام کر سکے ۔
امریکہ میں آج کل بہت سے ممتاز افراد شراب کے خلاف جہاد (کروسیڈ) جاری کیے ہوئے ہیں ۔ ان میں امریکہ کی خاتون اول (First Lady) مسز نینسی ریگن بھی شامل ہیں۔ پلین ٹروٹھ (اکتوبر ۱۹۸۶) کی رپورٹ کے مطابق مسز ریگن نے کیلی فورنیا میں تقریر کرتے ہوئے شراب کے نقصانات گنائے اور کہا کہ شراب نوشی کے اثرات سے ہم بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ کیونکہ شراب نوشی اور جرم کے درمیان قطعی اور براہِ راست رشتہ پایا جاتا ہے : It affects us when it destroys families. It affects us when it costs hundreds of millions of dollars through accidents and absenteeism in the workplace. It affects us since there is a definite and direct link between crime and drug abuse. مسز ریگن نے مزید کہا کہ یہ ایک اخلاقی مسئلہ (Moral issue) ہے۔ اس کے متعلق ہمیں ایک فیصلہ کرنا ہوگا ۔ آپ خواص کی کم مقدار میں شراب نوشی اور عوام کی زیادہ مقدار میں شراب نوشی کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کر سکتے ۔ دونوں ہی بُرائی ہیں۔ اخلاقی اعتبار سے دونوں کی حیثیت یکساں ہے :
You cannot separate polite drug use at a chic L. A. party from drug use in some back alley somewhere. They are morally equal. اسلام میں یہ تعلیم دی گئی تھی کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے ، اور یہ کہ جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کرے اس کی کم مقدار بھی حرام ہے (ما اسكر كثيره فقليله حرام) تہذیبِ جدید