Man Know Thyself
الرسالہ، مئی ۱۹۸۷، صفحہ ۲۲
اور قرآن کی آیت (سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ) سے ہوا۔ درمیانی اعلانات میں بھی ہمیشہ انشاء اللہ کا لفظ شامل رہتا تھا۔ کیپٹن وقار اس کے پائلٹ تھے۔ جہاز کے اندر کا نظام دوسری کئی ہوائی کمپنیوں سے بہتر نظر آیا۔
کراچی سے جہاز بدلنا تھا۔ یہاں دو رات اور ایک دن قیام رہا۔ کراچی میں میرا قیام ایئر پورٹ ہوٹل میں تھا۔ یہ ہوٹل پی آئی اے نے اپنے ٹرانزٹ مسافروں کے لیے بنایا ہے۔ وسیع ہوٹل کے اندر ایک چھوٹی سی بغیر چھت کی مسجد بھی موجود تھی ۔ وہ شاندار ہوٹل کے اندر غیر شاندار حالت میں نظر آئی۔ تاہم واپسی کے بعد جب میں دوبارہ ۲۳ ستمبر کو اس ہوٹل میں پہنچا تو معلوم ہوا کہ یہ مسجد دراصل زیر تعمیر تھی۔ چنانچہ واپسی میں وہ اپنی دیوار اور چھت کے ساتھ مکمل کھڑی ہوئی نظر آئی۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی سرسری مشاہدہ کی بنیاد پر ایک رائے قائم کر لیتا ہے جس کی تصدیق بعد کے مشاہدہ سے نہیں ہوتی۔
کراچی ایئرپورٹ پر ایئرپورٹ کے شایانِ شان چھوٹی سی خوبصورت مسجد موجود تھی ۔ یہاں ہم نے سکون کے ساتھ فجر کی نماز ادا کی۔
پچھلے پندرہ سال سے ایک عجیب و غریب عمل ساری دنیا میں جاری ہے جس کو فضائی قزاقی (Hijacking) کہا جاتا ہے۔ ۱۲ ستمبر کی شام کو میں کراچی ایئر پورٹ پر اترا تو اس سے صرف چند دن پہلے (۵ ستمبر ۱۹۸۶) کو پان ایم کی فلائٹ ۷۳ کے ساتھ اسی قسم کا ایک دہشت خیز واقعہ یہاں ہو چکا تھا۔ آج کل ہوائی اڈوں پر مسافروں کی زبردست چیکنگ ہوتی ہے۔ اس کے باوجود کیسے ممکن ہوتا ہے کہ لوگ آتشیں ہتھیار لے کر ہوائی جہازوں کے اندر داخل ہو جائیں، یہ بات آج تک میری سمجھ میں نہ آسکی۔ اگر چیکنگ کا موجودہ نظام اس کو روکنے کے لیے ناکافی ہے تو پھر ہزاروں بے قصور مسافروں کو اس سخت عمل سے گزارنے کا جواز کیا ہے جس کو سکیورٹی چک کہا جاتا ہے۔ کیا اس کا مقصد یہ ہے کہ گنہگاروں کی سزا بے گناہوں کو دی جائے ۔ فضائی قزاقی سے نمٹنا ایک بے حد نازک کام ہے۔ کسی ملک کی مسلح پولیس ہوائی جہاز کے اندر داخل ہو کر ان کو چند منٹ میں ہلاک کر سکتی ہے۔ مگر نہ اکت یہ ہے کہ فضائی مسلح قزاقوں کے ہاتھ میں خطرناک ہتھیار ہوتے ہیں۔ جب ان پر وار کیا جائے گا تو وہ بھی ضرور اپنا ہتھیار استعمال کریں گے