Al-Risala · May 1987 · page 23

Man Know Thyself

الرسالہ، مئی ۱۹۸۷، صفحہ ۲۳

اور اس دو طرفہ جنگ میں یہ گناہ مسافر مارے جائیں گے ، جیسا کراچی کے ہوائی اڈہ پر پان ایم کے جہاز کے ساتھ عملاً پیش آیا ۔ اس جہاز میں چار سو مسافر تھے ان میں سے ڈیڑھ درجن آدمی مرگئے اور تقریباً ڈیڑھ سو آدمی زخمی ہوئے ۔ (ٹائم میگزین ۱۵ ستمبر ۱۹۸۶) چنانچہ فضائی قزاقی سے نمٹنے کے لیے کچھ مسلمہ اصول (Accepted rules) ہیں۔ جن کا خلاصہ ان مختصر الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے ___ گفت و شنید کرو، گفت و شنید کرو، گفت و شنید کرو، وقت حاصل کرو، وقت حاصل کرو، وقت حاصل کرو:

Negotiate, negotiate, negotiate, negotiate. Buy time, buy time, buy time, buy time. مسئلہ جتنا زیادہ نازک ہو، اتنا ہی زیادہ حکمت کے ساتھ اس سے نپٹنا پڑتا ہے ۔ اگر چہ نادان آدمی نازک مسئلہ اور غیر نازک مسئلہ کے فرق کو نہیں سمجھتا۔ وہ دونوں سے یکساں انداز سے نپٹنے کی کوشش کرتا ہے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ صرف مسائل میں اضافہ کا سبب بنتا ہے، وہ کسی درجہ میں بھی مسئلہ کو کم نہیں کرتا۔

کراچی کے ہوٹل میں کھانے کے وقت ایک بار ایک پٹھان ہماری میز کے دوسری طرف آکر بیٹھ گیا ۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ سرحد کے رہنے والے ہیں ۔ اور ابوظبی سے آ رہے ہیں ۔ میں نے پوچھا کہ آپ ابوظبی میں کیا کام کرتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ”مزدوری “۔ اس کے بعد انھوں نے میرے بارہ میں سوالات پوچھنا شروع کیے ۔ جب میں نے بتایا کہ میں ہندوستان کا رہنے والا ہوں اور افریقہ جارہا ہوں، تو انھوں نے کہا :

افریقہ میں کیا کرتے ہو، کیا وہاں مزدوری کرتے ہو ۔

اس سوال پر میں خاموش رہا اور ان کو کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے سوچا کہ آدمی جس طبقہ کا ہو، اسی طبقہ کے مطابق اس کا فکر بھی بنتا ہے ۔ اپنے قریبی حالات سے اوپر اٹھ کر سوچنا نہایت نادر خصوصیت ہے۔ حتی کہ خواص بھی اس معاملہ میں اتنا ہی پیچھے ہیں جتنا کہ عوام ۔ ہوائی جہاز کا سفر بے حد نازک سفر ہے ۔ کسی بھی لمحہ کوئی ہنگامی صورت پیش آسکتی ہے جو واقعات کے رخ کو تبدیل کر دے ۔ ہم کہ کراچی سے روانہ ہوئے ۔ ابتداء یہ نہایت ہموار پرواز تھی ۔ سات گھنٹہ

‹ Previous page Next page › Contents of May 1987 All issues

Printed page