ایک ملحد کا اعتراف
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۲۱
حد آجائے گی جب کہ اس کا مفاد دوسرے کے مفاد سے ٹکرا رہا ہو۔ اسی طرح قومی مفاد کی بنیاد پر بننے والے اخلاق کی اس وقت حد آجاتی ہے جب کہ اپنی قوم کا مفاد اور دوسری قوم کا مفاد یکساں نہ رہے۔ اپنا قومی مفاد اگر اس میں ہو کہ لوگ جنگی سامان خرید کر قتل و غارت کا میدان گرم کریں تو وہ جنگی سامان بنائے گا اور اس کو دوسری قوموں کے ہاتھ فروخت کرے گا۔ خواہ اس کی قومی تجارت کا فروغ دوسری قوموں کی ہلاکت کی قیمت پر کیوں نہ ہو رہا ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ اخلاق کی ایک ہی صحیح بنیاد ہے اور وہ خدائے برتر کا عقیدہ ہے جو تمام کائنات کا خالق و مالک ہے۔ خدا تمام دوسری چیزوں سے بڑا ہے۔ وہ سب سے زیادہ سپریم ہے۔ جو شخص خدا کو پالے اس نے سب سے بڑی چیز کو پا لیا۔ ایسے آدمی کی کبھی حد نہیں آئے گی ۔ اس کی نظر میں ہر دوسری چیز چھوٹی ہوگی۔ خدا کو پا کر وہ آخری سب سے بڑی چیز کو پالے گا۔ اس کے بعد ہر دوسری چیز کی قربانی اس کے لیے آسان ہو جائے گی۔ وہ ہر دوسری چیز کا کھونا برداشت کرلے گا۔ کیوں کہ اس کو یقین ہوگا کہ کھونے کے بعد بھی اس کے پاس ایک چیز موجود ہے جو تمام چیزوں سے زیادہ بڑی ہے اور وہ اس کا خدا ہے۔
ایک ملحد کا اعتراف
برٹرینڈ رسل خدا کو نہیں مانتا۔ وہ انسانی معاملات کی تنظیم کے لیے انسانی قانون کو کافی سمجھتا ہے۔ مگر اسے یقین نہیں کہ ایسا ممکن ہے۔ وہ اس وقت اپنے کو لاجواب محسوس کرتا ہے کہ جب کہ ایک خدا پرست آدمی اس سے کہے کہ میں انسانی حاکم کی پکڑ سے بچ سکتا ہوں ، مگر میرے لیے یہ ممکن نہیں کہ میں اپنے آپ کو خدائی حاکم کی سزا سے بچالوں ! I might escape the human magistrate, but I could not escape punishment at the hands of the Divine Magistrate. برٹرینڈ رسل نے جان لاک (۱۶۳۲-۱۷۰۴) کے خیالات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مذہبی عقیدہ کے مطابق خدا نے کچھ خاص اخلاقی قوانین مقرر کیے ہیں۔ جو لوگ ان
‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues