Al-Risala · January 1987 · page 20

بھارت کی تعمیر

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۲۰

مثلاً مغربی ملکوں میں ایسا نہیں ہوتا کہ دودھ میں پانی ملایا جائے ۔ نقلی سامان تیار کرکے بازار بھر دیئے جائیں۔ ایک تاجر نمونہ کے طور پر اچھا مال دکھائے اور اس کے بعد خراب مال پیک کرکے آپ کو بھیج دے۔ دفتروں میں اپنا جائز کام بھی رشوت کے بغیر نہ ہوسکے۔ مگر مغربی انسان کے اس اخلاق کی اس وقت حد آجاتی ہے جب کہ اس کا اخلاق قومی مفاد سے ٹکرانے لگے ۔ مثلاً موجودہ زمانہ میں بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک کے یہاں سب سے زیادہ جس صنعت کو ترقی ہوئی ہے وہ جنگی صنعت ہے۔ ان ملکوں کے پاس تیار شدہ جنگی سامان کے انبار جمع ہو گئے ہیں۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ تمام چیزیں انتہائی مہلک ہیں۔ وہ خدا کی دنیا کو جہنم بنا دینے والی ہیں۔ مگر ان کا قومی مفاد چاہتا ہے کہ وہ فروخت ہوں تاکہ ان پر جو بے پناہ لاگت آئی ہے وہ نفع کے ساتھ انھیں واپس ملے ۔ اگر حالات بالکل معمول پر ہوں۔ ہر طرف امن و سکون ہو تو کوئی بھی ان کے مہلک ہتھیاروں کو نہیں خریدے گا۔ اس لیے یہ ترقی یافتہ قو میں یہ کرتی ہیں کہ عالمی سطح پرتناؤ کے حالات پیدا کرتی ہیں۔ ان کے رہنما اپنے تخریبی منصوبوں کے ذریعہ ایک ملک کو دوسرے ملک سے لڑاتے ہیں۔ وہ ہر علاقہ میں زبردستی ایک ”اسرائیل “ کھڑا کرتے ہیں تاکہ قوموں کے اندر خطرہ کی نفسیات پیدا ہو اور وہ زیادہ سے زیادہ ان کے ہتھیار خریدیں ۔

اپنے معاشرہ میں ذاتی سلوک کے معاملہ میں ان قوموں کے افراد با اخلاق ہیں۔ مگر جب ان کی قوم کے مفاد کا معاملہ آجائے تو وہاں ان کی حد آ جاتی ہے ۔ قومی مفاد کے معاملہ میں وہ ان سب چیزوں کو جائز کر لیتے ہیں جن کو وہ ذاتی مفاد کے معاملہ میں ناجائز کیے ہوئے تھے۔

ہر آدمی کی زندگی میں کوئی ایسی چیز ہوتی ہے جو اس کے لیے سب سے بڑی (Supreme) حیثیت رکھتی ہے ۔ عام آدمی کے لیے اس کا ذاتی مفاد اس کے لیے سپریم ہوتا ہے ۔ کچھ ترقی یافتہ معاشروں میں ان کا قومی مفاد ان کے لیے سپریم ہے ۔ مگر ان دونوں میں سے کوئی بھی چیز اخلاق کی صحیح بنیاد نہیں ۔ کیوں کہ ذاتی مفاد کی بنیاد پر بننے والے اخلاق کی اس وقت

‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues

Printed page