Al-Risala · May 1987 · page 24

Man Know Thyself

الرسالہ، مئی ۱۹۸۷، صفحہ ۲۴

کی مسلسل اُڑان کے بعد ہم کو منزل پر پہنچنا تھا۔ مگر چند گھنٹے کے بعد خطرے کا الارم بجنے لگا۔ پھر اعلان ہوا کہ بعض " ٹیکنیکل سبب " کے تحت جہاز درمیان میں اتار ا جار ہا ہے۔ دوران پرواز پائلٹ نے عمان ایرپورٹ سے رابطہ قائم کیا اور اس سے اجازت لے کر جہاز کو نیچے اتارنا شروع کیا، یہاں تک کہ وہ عمان کے ہوائی اڈہ پر اُتر گیا ۔ جیسے ہی جہاز کے پہیے نے زمین کو چُھوا، مسافروں نے خوشی کے اظہار کے طور پر تالیاں بجائیں ۔ کیوں کہ یہ بھی ممکن تھا کہ جہاز ہوائی اڈہ پر اُترنے کے بجائے کسی کھڈ میں جاگرے ۔

عمان (اردن) میں ہم ساڑھے سات گھنٹہ تک رکے رہے ۔ جہاز کے ایک انجن نے کام کرنا بند کر دیا تھا۔ انجینیروں نے مسلسل محنت کر کے اس کو درست کیا ، اس کے بعد جہاز دوبارہ آگے کے لیے روانہ ہوا۔

تقریباً دو سو مسافر عمان کے ہوائی اڈہ پر پہنچا دیے گئے ۔ عمان کا ہوائی اڈہ چھوٹا مگر خوبصورت ہے۔ یہاں ہم نے دو نمازیں پڑھیں ، ایک ظہر کی اور دوسری عصر کی ۔ میں نے دیکھا کہ مسافروں کی اکثریت یا تو باتیں کر رہی ہے یا سگریٹ کا دھواں اُڑانے میں مشغول ہے۔ کوئی چپ کی دنیا میں مشغول ہونے والا نظر نہ آیا۔ جن لوگوں کے پاس اپنے آپ سے باتیں کرنے کے لیے کچھ نہ ہو وہ بیرونی کلام میں مشغول ہوتے ہیں۔ جن کو اپنے اندر سفر کرنے کے لیے راستہ نہ ملے، وہ باہر کے راستوں پر دوڑتے ہیں۔

عمان کے ساڑھے سات گھنٹے بڑے سخت گزرے ۔ بظاہر وہاں کوئی تکلیف نہ تھی۔ کھانے پینے کا انتظام بھی موجود تھا۔ آرام دہ نشستیں تھیں جن پر کوئی بیٹھا تھا اور کوئی لیٹا ہوا تھا۔ ضروریات کا تمام سامان مہیا تھا۔ مگر مجھ پر الانتظار اشد من الموت کی کیفیت طاری تھی۔ میں نے کہا: خدايا ، عاجز انسان خیالی تکلیف کو بھی برداشت نہیں کر سکتا ، پھر آخرت میں وہ حقیقی تکلیف کو کس طرح برداشت کرے گا۔

عمان کے ہوائی اڈہ پر بڑے بڑے فریموں میں تاریخی آثار (الکرک، جرش، عقبہ، موتہ وغیرہ) کی تصویریں کثرت سے لگی ہوئی تھیں۔ موجودہ اردن کی تجارتی یا تمدنی اعتبار سے کوئی اہمیت نہیں ۔ مگر تاریخی اعتبار سے وہ زبردست اہمیت رکھتا ہے ۔ یہاں سیاح کثرت سے تاریخی آثار

‹ Previous page Next page › Contents of May 1987 All issues

Printed page