Al-Risala · May 1987 · page 27

Man Know Thyself

الرسالہ، مئی ۱۹۸۷، صفحہ ۲۷

کا یہ حال تھا کہ پروگرام کے تحت ہونے والی نمازوں (مثلاً مغرب) میں تو وہ مسجد میں نظر آتے تھے۔ مگر اس کے بعد ان کو مسجد میں پانا بہت مشکل تھا۔ چنانچہ میں نے ان کو نہیں دیکھا کہ وہ کبھی فجر کی جماعت میں شریک ہوئے ہوں، یہاں مغرب کی جماعت میں سب سے زیادہ آدمی ہوتے تھے اور فجر کی جماعت میں سب سے کم ۔

اس کانفرنس میں تقریباً ۸۵ ملکوں کے ۴۰۰ علما اور دانشور شریک ہوئے ۔ کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے صدر جلسہ نے کہا :

نحن هنا من كل انحاء العالم الاسلامی بل من كل انحاء العالم یہ کانفرنس دعوت اسلامی کے موضوع پر تھی۔ یہی ایک جذبہ لے کر ہر شخص اس میں شریک ہوا تھا کہ اسلام کی دعوت کو از سر نو زندہ اور غالب کیا جائے ۔ مگر یہاں اور دوسرے مواقع پر گفتگو کے بعد میرا تاثر یہ ہے کہ اس وقت ساری دنیا میں مسلمان ایک ہی قسم کے ذہنی انتشار سے دوچار ہیں۔ اور وہ یہ کہ وہ دعوت اسلام اور دفاع اسلام کو الگ الگ کرکے دیکھ نہیں پاتے۔ وہ دعوت کے عنوان پر بولنا شروع کرتے ہیں اور اس کے بعد جلد ہی دفاع کے موضوع پر بہہ پہنچ جاتے ہیں اور پھر تقریر کی پوری ٹرین دفاع کے موضوع پر چلتی ہے اور اسی پر ختم ہو جاتی ہے۔ یہاں کئی ایسے لوگ ملے جو الرساله (انگریزی) کے قاری تھے ۔ ہر ایک نے غیر معمولی الفاظ میں اس کی زبان و بیان کی خوبیوں کا اعتراف کیا۔ ایک امریکی نو مسلم سے میں نے الرساله (انگریزی) کے بارہ میں ان کا تاثر پوچھا تو وہ بار بار ممتاز ممتاز (Excellent, Excellent) کہتے رہے۔ افریقہ میں جو لوگ الرساله (انگریزی) کا افریقی ایڈیشن نکال رہے ہیں، ان میں سے ایک صاحب یہاں آئے ہوئے تھے ۔ ان سے ملاقات ہوئی ۔ انہوں نے بتایا کہ افریقہ میں الرساله (انگریزی) کی مقبولیت دن بدن بڑھتی جارہی ہے ۔ لوگ بہت شوق سے اس کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ میرا مقالہ ۱۶ ستمبر ۱۹۸۶ء کی نشست میں تھا۔ یہ مقالہ عربی میں تھا اور اس میں دکھایا گیا تھا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے پھٹے پرن کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے آج کے دور میں اپنی نفع بخشی کھودی ہے۔ خدا کا قانون اس دنیا کے لیے یہ ہے کہ جو شخص یا گر وہ اپنے آپ کو نفع بخش ثابت کرے اس کو عزت اور استحکام ملے۔ مسلمان جب تک اپنے آپ اس قانون کا مصداق ثابت

‹ Previous page Next page › Contents of May 1987 All issues

Printed page