Al-Risala · May 1987 · page 28

Man Know Thyself

الرسالہ، مئی ۱۹۸۷، صفحہ ۲۸

نہ کریں وہ بلند مقام حاصل نہیں کر سکتے ۔ یہ مقالہ ( اسلام دورِ جدید میں ) انشاء اللہ الرسالہ میں شائع کر دیا جائے گا۔ یہ مقالہ کانفرنس کی طرف سے تین زبانوں میں تقسیم کیا گیا ۔ عربی ، انگریزی ، فرانسیسی ۔

یہ عالمی موتمر ۱۵ ستمبر سے ۲۰ ستمبر تک جاری رہی ۔ موتمر کی صورت یہ تھی کہ مختلف اہلِ علم کو پیشگی طور پر متعین موضوعات بھیج دیے گئے تھے ۔ میرے محاضرہ کا عنوان تھا : حاجة المسلمين الى الاخذ باسباب التقدم العلمي والتقنى ہر نشست میں ضروری رسمی کارروائیوں کے بعد محاضر اپنا محاضرہ پیش کرتا ۔ اس کے بعد لوگوں کو اظہار خیال کا موقع دیا جاتا ۔ آخر میں محاضر لوگوں کے سوالات کا جواب دیتا ۔ میرے محاضرہ میں ایک بات یہ کہی گئی تھی کہ توحید اس دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے ۔ توحید کو ماننے ہی کے نتیجہ میں ہمارے اسلاف نے بڑے بڑے سائنسی کارنامے انجام دیے ۔ اس پر ترکی کے ایک پروفیسر نے سوال کیا کہ توحید میں اور سائنسی ترقیوں میں کیا تعلق ہے ۔ میں نے کہا کہ توحید محض ایک رسمی عقیدہ نہیں ، وہ ایک ذہنی و فکری انقلاب ہے ، بلکہ سب سے بڑا فکری انقلاب ہے ۔ اور یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ تمام علمی ترقیاں ذہنی انقلاب ہی کے ذریعہ پیدا ہوتی ہیں ۔ ذہنی انقلاب آدمی کی پوری شخصیت کو جگا دیتا ہے ۔ اس کی تمام سوئی ہوئی صلاحیتیں بروئے کار آ جاتی ہیں اور اسی کے نتیجہ کا نام عملی ترقی ہے ۔ ہمارے اسلاف کے لیے توحید ایک عظیم ذہنی انقلاب تھی ، اسی کا نتیجہ تھا کہ وہ اس قابل بنے کہ ہر قسم کی اعلیٰ ترین ترقیاں حاصل کریں ۔ مسلمانوں کی موجودہ نسل کے لیے توحید محض ایک رسمی عقیدہ ہے اس لیے وہ جدید دنیا میں کوئی بڑا کارنامہ بھی انجام نہ دے سکے ۔

محاضرات کے علاوہ دعوت اور احوالِ مسلمین کے بارے میں مختلف تجویزیں پیش کی گئیں۔ مختلف ملکوں میں اسلامی دعوت کی صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا ۔ اور اس کی روشنی میں پروگرام بنائے گیے ۔

۱۸ ستمبر ۱۹۸۶ء کی نشست میں راقم الحروف کو صدر ( رئیس الجلسہ ) بنایا گیا۔ ایک عربی مجلے نے میرا تفصیلی انٹرویو لیا جو اس کی اگلی اشاعت میں شائع ہوگا ۔ بعض اور جرائد انٹرویو

‹ Previous page Next page › Contents of May 1987 All issues

Printed page