Al-Risala · May 1987 · page 29

Man Know Thyself

الرسالہ، مئی ۱۹۸۷، صفحہ ۲۹

لینا چاہتے تھے، مگر میں اس کے لیے وقت نہ نکال سکا۔ ٹیلی وژن پر مجھ سے انٹرویو دینے کے لیے کہا گیا، مگر میں ان کی اس فرمائش کو بھی پورا نہ کر سکا۔

مسائل کے مطالعہ میں ایک عام غلطی یہ کی جاتی ہے کہ حقیقی باتوں اور غیر حقیقی باتوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے نہیں دیکھا جاتا۔ اس کے نتیجہ میں پورا مطالعہ غلط ہو جاتا ہے۔ مثلاً نائجیریا کی خاتون (زینب) نے اپنی پرجوش انگریزی تقریر میں عورتوں کے ساتھ امتیازی سلوک پر سخت احتجاج کیا۔ اس سلسلے میں انھوں نے عورتوں کو گھر میں رکھنے کا ذکر کیا۔ اسی کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ عورتوں کا ختنہ کیا جاتا ہے جو عورتوں کے اوپر سراسر ظلم ہے۔ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ گھر کا معاملہ عورتوں کے سپرد کرنا ایک صحیح اسلامی تعلیم ہے اور اس کی حکمت تقسیم کار ہے۔ جب کہ عورتوں کا ختنہ سراسر ایک جاہلانہ رواج ہے جو افریقہ کے بعض قبائل میں پایا جاتا ہے، مگر اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔

اسی طرح ایک صاحب ساؤتھ افریقہ سے آئے تھے۔ انھوں نے حج کے "مراسم" پر تبصرہ کرنا شروع کیا۔ انھوں نے حج کے واقعی اور ثابت شدہ مراسم پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے اسی میں یہ بات بھی شامل کر دی کہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حجر اسود پہلے سفید تھا۔ مگر وہ انسانوں کے گناہ سے کالا ہو گیا۔ مگر یہ دونوں باتیں ایک دوسرے مختلف ہیں۔ حج کے ثابت شدہ مراسم فی الواقع حج کے اجزاء ہیں۔ جب کہ حجر اسود کا سفید سے کالا ہو جانا ایک بے بنیاد کہانی ہے جس کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔

میں ۱۹۵۷ء سے ۱۹۶۳ء تک جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوریٰ کا رکن تھا۔ اس وقت سے لے کر اب تک مجھے بہت سی جماعتوں اور تنظیموں کے اجلاس میں شرکت کا اتفاق ہوا ہے۔ میں نے مشترک طور پر ہر جگہ یہ بات پائی ہے کہ لوگ الفاظ پر اس قدر بحث کرتے ہیں جیسے کہ ان کے یہی الفاظ تاریخ بننے والے ہیں۔ جو لفظ وہ اجتماع گاہ میں کاغذ پر لکھ دیں گے وہی باہر کی دنیا میں پہونچ کر واقعہ بن جائیں گے۔

مثلاً اس موتمر کے آخری اجلاس میں ایک تجویز پر گفتگو ہو رہی تھی۔ ایک شخص نے تجویز پیش کی کہ ایران۔ عراق جنگ کے بارہ میں ایک تجویز پاس ہو اور اس کو دونوں ملکوں کے ذمہ داروں

‹ Previous page Next page › Contents of May 1987 All issues

Printed page