Al-Risala · May 1987 · page 32

Man Know Thyself

الرسالہ، مئی ۱۹۸۷، صفحہ ۳۲

دیا جس نے انگریزی زبان میں اپنا سوال پیش کیا تھا، اور پھر اچانک وہ انگریزی میں بولنے لگے۔ موجودہ زمانہ میں بہت لوگ ہیں جو بیک وقت کئی کئی زبانوں میں بول سکتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کیسا عجیب و غریب دماغ دیا ہے۔ جس طرح ریڈیو میں ایک بٹن دبا کر آپ ایک زبان کی نشریات سنتے ہیں اور دوسرا بٹن دبائیں تو دوسری زبان کی نشریات آنے لگیں گی، اور تیسرا بٹن دبائیں تو تیسری زبان کی۔ یہی حال زیادہ عجیب تر شکل میں انسانی دماغ کا ہے۔ کیسا عظیم ہوگا وہ خالق جس نے ایسے انسانی دماغ کو بنایا۔

یہ سوچتے ہوئے میرے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ میں نے کہا کہ خدایا ، مجھے ان لوگوں میں لکھ لیجیے جنھوں نے آپ کی عظمت کا اعتراف کیا، اس وقت جب کہ انھوں نے اس کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا تھا، اس وقت جب کہ وہ اس کا اعتراف کرنے پر مجبور نہیں ہوئے تھے۔ ہر آدمی چیزوں کو اپنے اپنے نقطہ نظر سے دیکھتا ہے۔ اس کی ایک دلچسپ مثال نائجیریا کی ایک مسلم خاتون (زینب) کی تقریر میں سامنے آئی۔ ان دنوں ٹیلی وزن پر عمر مختار کی مشہور فلم دکھائی گئی تھی۔ خاتون نے کہا کہ میں نے پچھلی رات کو ٹیلی وزن پر عمر مختار فلم دیکھی۔ اس میں شک نہیں کہ یہ فلم نہایت شاندار ہے۔ مگر طویل فلم میں سارا کردار صرف مرد ادا کرتے ہیں۔ واحد موقع جب کہ اس فلم میں عورت کو دکھایا گیا ہے ، وہ موقع وہ ہے جب کہ عمر مختار کی بیوی کو اطالویوں نے گھر سے نکال کر سولی پر چڑھا دیا۔

اس تاریخی فلم کا ایک حصہ راقم الحروف کے سامنے سے بھی گزر رہا تھا۔ خاتون کی بات بطور واقعہ درست ہے۔ تاہم میرے ذہن میں اس قسم کا خیال بھی نہیں آیا۔ مگر جب ایک آزادی پسند خاتون نے اس کو دیکھا تو اس کو پوری فلم میں سب سے زیادہ قابلِ لحاظ بات جو نظر آئی وہ یہ تھی کہ اس میں عورت کے کردار کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

فلم عمر مختار اور فلم گاندھی کا موضوع اس اعتبار سے مشترک ہے کہ دونوں ایک ایک ملک کی آزادی کی جد و جہد کی تصویر کشی کرتی ہیں۔ مگر اس کو دیکھ کر مجھے خیال ہوا کہ "گاندھی" کے مقابلہ میں "عمر مختار" زیادہ عظیم ہے۔ اس کی وجہ فن کا فرق نہیں ہے۔ بلکہ خود کہانی کا فرق ہے ۔ "گاندھی" ایک ایسے لیڈر کی کہانی کو مصور کرتی ہے جس نے "امن" کی طاقت سے ہندوستان

‹ Previous page Next page › Contents of May 1987 All issues

Printed page