Al-Risala · May 1987 · page 33

Man Know Thyself

الرسالہ، مئی ۱۹۸۷، صفحہ ۳۳

کو آزاد کرایا۔ اس کے مقابلہ میں ”عمر مختار“ نے اطالویوں کا مقابلہ مسلح انداز سے کیا۔ گاندھی فلم میں اگر ”پر امن مارچ“ کے مناظر ہیں تو عمر مختار فلم میں دہشت اور خونخواری کے مناظر۔ یہی وہ فرق ہے جس نے ”گاندھی“ کے مقابلہ میں ”عمر مختار“ کو دیکھنے والوں کے لیے زیادہ پر شوکت بنا دیا ہے۔

آدمی خواہ بزدل ہو مگر وہ جنگ اور جہاد کی باتوں کو پسند کرتا ہے۔ ”عمر مختار“ میں اگر چہ فنی کمال بھی اپنے انتہائی درجہ پر ہے، تاہم اس میں اگر عمر مختار کی ماں یا ان کی بیوی کا وہ کردار دکھایا جاتا جب کہ انھوں نے گھر کو سنبھالا اور بچوں کی پرورش کی، تو اس قسم کے مناظر باعتبار حقیقت عظیم ہونے کے باوجود دیکھنے والوں کو عظیم نظر نہ آتے۔ مگر موجودہ شکل میں وہ مار دھاڑ کی ایک فلم ہے، اور اسی چیز نے اس کو عظیم بنا دیا ہے۔ جنگی مشینوں کی گڑگڑاہٹ گولوں کے دھماکے، آگ اور خون کے ہولناک مناظر ، میدانِ جنگ کا پر ہول نقشہ، فتح و شکست کے جذباتی لمحات اس قسم کی چیزیں اس میں کمال درجہ میں موجود ہیں۔ اور یہی اس کی کامیابی کا اصل راز ہے ۔

ایک عرب نوجوان جو برلن (جرمنی) سے آئے تھے، انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہم بحیثیت مسلمان امن کو پسند کرتے ہیں ۔ مگر ہم کسی کے آگے جھکنے کے لیے تیار نہیں ؛ انّا كمسلمين نحب السَّلام ولكننا نرفض الاستسلام بظاہر یہ ایک بڑی اچھی بات معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہ صرف ایک پر جوش کلمہ ہے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ پر امن وہی شخص رہ سکتا ہے جو اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے بچائے۔ اس دنیا میں امن پسندی نام ہے بے امنی کے باوجود پر امن رہنے کا۔ مگر مذکورہ قسم کے پر جوش مقررین اس راز سے واقف نہیں ۔

کانفرنس میں مختلف لوگوں نے اپنے اپنے ملک میں اسلام اور مسلمانوں کی حالت کے بارے میں کتابچے اور رپورٹیں تقسیم کیں ۔ ان میں کافی معلومات اور تجربات درج تھے جن کی تفصیل سفر نامہ میں بیان کرنا ممکن نہیں ۔

سری نام کے وفد نے تین صفحہ کی ایک رپورٹ تقسیم کی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت

‹ Previous page Next page › Contents of May 1987 All issues

Printed page