Al-Risala · January 1987 · page 23

ایمان پر قائم رہنا

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۲۳

ایمان پر قائم رہنا

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ تم نہ اندیشہ کرو اور نہ رنج کرو اور تم کو جنت کی بشارت ہو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا ۔ (حم السجدہ ۳۰)

اس کی تفسیر کے تحت دو اقتباس یہاں نقل کیے جاتے ہیں :

عن سفیان بن عبد الله الثقفی قال، قلت حضرت سفیان بن عبد اللہ الثقفی کہتے ہیں کہ میں نے يا رسول الله قل لى فى الاسلام قولا لا اسئل کہا کہ اے خدا کے رسول، مجھے اسلام کے بارے میں عنه احداً بعدك ۔ قال صلى الله عليه ایسی بات بتلائیے کہ اس کے بارے میں آپ کے بعد وسلم : متل آمنت بالله ثم استقم کسی سے نہ پوچھوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (تفسیر ابن کثیر ، جلد ثالث ، ) نے فرمایا، تم کہو کہ میں اللہ پر ایمان لایا اور پھر اس پر ثابت قدم رہو ۔

قال الحافظ ابو يعلى الموصلی عن انس بن مالک حضرت انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ رضی الله عنه قال : قرأ علينا رسول الله صلى الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے یہ آیت پڑھی جن عليه وسلم هذه الآية (إن الذين لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اس پر قالوا ربنا الله ثم استقاموا) فقال قد قالها قائم رہے ، آپ نے فرمایا کہ لوگوں نے یہ کلمہ کہا۔ پھر ناس ثم كفر اكثرهم فمن قالها حتى ان میں سے اکثر اس کے منکر بن گئے۔ جس شخص نے يموت فقد استقام عليها - اس کو موت تک کہا تو وہ اس پر قائم رہا۔

ایمان لانا اس بات کا عہد کرنا ہے کہ آدمی دنیا میں خدا والا بن کر رہے گا۔ وہ اپنے ہر معاملہ میں وہی کرے گا جو خدا کی مرضی کے مطابق ہو اور وہ نہ کرے گا جو خدا کی مرضی کے مطابق نہ ہو۔ مومن وہ ہے جو یہ عہد کر کے زندگی میں داخل ہو اور پھر ہر معاملہ میں اس عہد پر قائم رہے خواہ وہ اس کی خواہش کے مطابق ہو یا اس کی خواہش کے خلاف ۔ منافق وہ ہے جس نے زبان سے یہ عہد کیا مگر جب اس عہد پر عمل کرنے کا وقت آیا تو وہ پھر گیا۔ وہ خدا کو بھول کر اپنے نفس کے پیچھے چل پڑا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues

Printed page