تین قسم کے آدمی
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۲۴
تین قسم کے آدمی
آدمی تین قسم کے ہوتے ہیں۔ اور اسی اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے یہاں ان کے درجات ہیں۔ کوئی اونچا اور کوئی نیچا۔ کوئی کامیاب اور کوئی ناکام ۔
ایک انسان وہ ہے کہ جو کچھ وہ کرے اس کو کرنے کے بعد بھول جائے۔ ایک کام کرنے کے بعد اس کی نظر دوسرے کام پر جم جائے ۔ اس کی نظر اپنے کیے پر نہ ہو، بلکہ اس پر ہو جو اس نے نہیں کیا۔ وہ اپنے منہ" کو بھلا دے اور اپنے " نہیں " کو یاد رکھے ۔ یہ اول درجہ کا انسان ہے ۔ یہ وہ شخص ہے جس کی ترقی برابر جاری رہتی ہے ، اس کی ترقی کسی حد پر نہیں رکتی ۔ دوسرا آدمی وہ ہے جو اپنا بے لاگ جائزہ لیتا رہے ۔ وہ اپنے کیے کو بھلا نہ سکے تاہم وہ اپنے بارہ میں غلط فہمی کا شکار بھی نہ ہو۔ وہ اپنے آپ کو اتنا ہی سمجھے جتنا کہ فی الواقع وہ ہے، نہ کہ اس سے زیادہ ۔ مثلاً اگر اس نے ایک جزئی کام کیا ہے تو وہ اپنے آپ کو جزئی کام کرنے والا قرار دے نہ کہ کُل کام کرنے والا ۔ اس کا ذہن یہ ہو کہ میں نے ایک حیثیت سے دین کی خدمت کی ہے نہ کہ ساری حیثیت سے ۔
یہ دوسرا آدمی بھی صحیح آدمی ہے ۔ وہ خواہ زیادہ بڑی کامیابی حاصل نہ کر سکے، مگر انشاء اللہ وہ تباہ و برباد ہونے سے محفوظ رہے گا ۔
تیسرا شخص وہ ہے جو حد سے تجاوز کرے ۔ وہ اپنے آپ کو اس سے زیادہ ظاہر کرے جتنا کہ وہ فی الواقع ہے ۔ اس سے اگر کوئی نیک کام ہو جائے تو وہ ہمیشہ اس کا چرچا کرتا رہے ۔ وہ جز پر عامل ہو اور کلی کا کریڈٹ لینا چاہے۔ اس نے کسی ایک حیثیت سے کوئی اچھا کام کیا ہو اور یہ یقین کرے کہ جو کچھ ہوا ہے سب اسی کی بدولت ہوا ہے ۔ اگر وہ نہ ہوتا تو کچھ نہ ہوتا ۔
یہ تیسرا شخص وہی ہے جس کو شریعت میں ریا کار کہا گیا ہے ۔ ایسا شخص آخری حد تک بھٹکا ہوا ہے ۔ وہ خدا کے غضب کا مستحق ہے نہ کہ خدا کی رحمت کا ۔ خدا کی دنیا میں اس کے لیے ناکامی اور بربادی کے سوا کچھ اور مقدر نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues