دین سے دور
الرسالہ، مئی ۱۹۸۷، صفحہ ۴۷
جو نہیں موصول ہوسکے ، مہربانی فرما کر کردیں اس میں ہمیں مارچ ، جون ، اکتوبر ، نومبر اور دسمبر ۸۶ء کے پرچے موصول نہ ہوسکے ۔ ہمیں سال کے آخر میں فائل کو مکمل کر کے اس کی جلد بندی کرانی ہوتی ہے۔ آپ مہربانی فرما کر تعاون فرمائیں ۔ ہم بے حد ممنون ہوں گے ۔
۱۰- مرکز کی نئی کتاب "خاتون اسلام" کے بارہ میں قارئین کی طرف سے نہایت اعلیٰ رائیں موصول ہورہی ہیں ۔ ایک صاحب بمبئی سے اپنے خط (۳۱ مارچ ۱۹۸۷ء) میں لکھتے ہیں: خاتون اسلام پڑھ رہا ہوں ۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ آپ کی یہ کتاب اپنے موضوع پر اردو میں پہلی کتاب ہے ۔ نہایت مؤثر اور مدلل ۔ میرے خیال میں اس کی انگریزی زبان میں اشاعت بہت ضروری ہے (ندیم صدیقی)
۱۱- مرکز کی ڈاک میں برابر ایسے خطوط آرہے ہیں جن میں یہ درخواست شامل ہوتی ہے کہ انھیں مرکز کی کتابوں کو دوسری زبانوں میں ترجمہ کرنے کی اجازت دی جائے ۔ مثلاً بنگلہ، ملیالم، پشتو، سندھی، وغیرہ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مرکز کی دعوت خدا کے فضل سے نہایت تیزی کے ساتھ دوسرے لسانی علاقوں میں پھیل رہی ہے ۔
۱۲- ایک صاحب مرکز کی مطبوعات اور الرسالہ کے بارہ میں خط ۱۶ مارچ میں تحریر کرتے ہیں : Some books are,' to quote Bacon, 'to be tasted, others to be swallowed, and some few to be chewed and digested.' Your magnum opus 'Muhammad: The Prophet of Revolution' and other thought- provoking publications belong to the last category. I relish to read regularly your prestigious periodical (Al-Risala) which is like a lodestar on the otherwise murky horizon of intellectual bankruptcy. Tariq A. Shah, 35 New Colony, Sopore 193201 ۱۳- ایک صاحب نوادہ ( بہار) سے اپنے خط میں لکھتے ہیں : الرسالہ کے واسطہ سے آپ سے رابطہ قائم ہے اور تا زندگی قائم رہے گا، انشا اللہ ۔ ایک آدمی بہت ساری کتابیں مطالعہ کرے، مختلف زبانوں اور مختلف موضوعات پر کتابیں ۔ کس کے پاس اتنا وقت ہے کہ اور ہو بھی تو چھان پھٹک کر کام کی باتیں اخذ کرنے کا سلیقہ جو خدا داد ہوتا ہے تو ہونا چاہیے ۔ دین بھی سنورے اور زندگی بھی ، الرسالہ اسی کا بہترین حل ہے (نذیر الحق)