Al-Risala · May 1987 · page 46

دین سے دور

الرسالہ، مئی ۱۹۸۷، صفحہ ۴۶

بالواسطہ انداز میں اسلامی مرکز کے پیغام کو پھیلانے کا ذریعہ بن رہے ہیں ۔ پچھلے دنوں ملک کے مختلف مقامات پر ہونے والے اجتماعی مواقع پر اسلامی مرکز کی مطبوعات کا اسٹال لگایا گیا ۔ خدا کے فضل سے قابلِ لحاظ کامیابی حاصل ہوئی ۔ چند مقامات کے نام یہ ہیں :

بھوپال کے تبلیغی اجتماع میں ۲۰ - ۲۲ دسمبر ۱۹۸۶ اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن ، بنگلور ۲۴ - ۲۸ دسمبر ۱۹۸۶ نیشنل بک فیئر، ، تریویندرم ۱۰ - ۲۰ جنوری ۱۹۸۷ نیشنل بک فیر ، کلکتہ یکم - ۱۰ فروری ۱۹۸۷ ان مواقع پر کافی بڑی تعداد میں لوگ بک اسٹال پر آئے اور معلومات اور کتب ہیں حاصل کیں ۔ کلکتہ کے اسٹال پر آنے والوں میں مسٹر ایم جے اکبر (ڈیلی ٹیلی گراف) اور نوبل انعام یافتہ انگریز ولیم گولڈنگ (Dr William Golding) بھی تھے ۔ ان لوگوں کو انگریزی کتا بیں ہدیتہً پیش کی گئیں ۔

جدید تعلیم یافتہ طبقہ نہایت توجہ کے ساتھ الرسالہ کا مطالعہ کر رہا ہے اور اس سے دینی تاثر قبول کر رہا ہے ۔ اس سلسلہ میں ایک خط (۱۶ مارچ ، ۱۹۸۷) کا ایک حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے : Since I became a regular subscriber of your esteemed monthly journal Al-Risala, I am studying it regularly and finding it very absorbing, thought-provoking, analytical and enlightening. Your effort is highly praiseworthy and deserves the support from every nook and corner of our society. Syed Shafiuddin, E-64, Foch Square, New Delhi 110001 علمی اداروں میں الرسالہ جس نظر سے دیکھا جارہا ہے اس کا اندازہ خطوط سے ہوتا رہتا ہے ۔ یہاں ادارہ معارف اسلامی (منصورہ ، لاہور) کا خط مورخہ ۲۷ دسمبر ۱۹۸۶ نقل کیا جاتا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں : آپ کی طرف سے ہمیں ماہنامہ "الرسالہ" تقریباً موصول ہوتا رہتا ہے ۔ اس میں عصر حاضر کے مسائل کو بڑی تفصیل اور حکمت کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے ۔ اس لیے الرسالہ ہمارے علمی و تحقیقی کام میں بہت مفید ثابت ہوتا ہے ۔ لیکن اس سال کے پرچے

‹ Previous page Next page › Contents of May 1987 All issues

Printed page