تکبیرِ رب
الرسالہ، جون ۱۹۸۷، صفحہ ۳
تکبیرِ رب
قرآن میں مویشیوں کا اور قربانی کے اونٹوں کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد ہوا ہے کہ ان جانوروں کو خدا نے تمہارے لیے مسخر کر دیا ہے تاکہ اللہ کی ہدایت پر تم اس کی بڑائی کرو وَکَذَلِکَ سَخَّرَهَا لَکُمْ لِتُکَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ ، (الحج ، ۳۷) انسان بھیڑیے اور ریچھ کو اپنا خدمت گار نہیں بنا سکتا ۔ مگر بیل اور اونٹ سے وہ مختلف قسم کی خدمت لیتا ہے ۔ یہ تسخیر کی بنا پر ممکن ہوا ہے ۔ جن جانوروں کو مویشی کہا جاتا ہے ، ان کے اندر جبلّی طور پر یہ مزاج ہے کہ وہ انسان کے تابع بن جاتے ہیں ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو مویشیوں سے کام لینا بھی اتنا ہی دشوار ہوتا جتنا وحشی جانوروں سے کام لینا دشوار ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے ۔ ایمان یہ ہے کہ آدمی اللہ کے اس تخلیقی کرشمہ کو جانے اور اس پر شکر گزاری سے اس کا دل لبریز ہو جائے ۔ اللہ کا ایک بندہ جب اللہ کے نام پر جانور کی قربانی کرتا ہے تو یہ گویا اس کے دل کی کیفیت کا ایک خارجی اظہار ہوتا ہے ۔ وہ گویا عمل کی زبان میں کہتا ہے کہ خدایا ، تو نے اگر ان حیوانات کو ایسا نہ بنایا ہوتا تو میرے لیے ممکن نہ تھا کہ میں ان کو اپنے لیے مسخر کر سکوں ۔
یہی معاملہ موجودہ دنیا کی تمام چیزوں کا ہے ۔ ہر چیز انسان کے لیے خدا کی نعمت ہے ۔ ہر چیز اسی وجہ سے انسان کے لیے قابلِ استعمال ہے کہ وہ انسان کے لیے مسخر کر دی گئی ہے ۔ ہر چیز کا تقاضا ہے کہ اس کو دیکھ کر انسان کے اندر خدا کی عظمت کا احساس جاگ اٹھے ۔ اس کا سینہ خدا کی بڑائی کے جذبے سے سرشار ہو جائے ۔ یہی تکبیر رب ہے ۔ تکبیرِ رب اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ایک نفسیاتی فعل ہے ۔ اسی معنی میں ارشاد ہوا ہے کہ وَرَبَّكَ فَکَبِّرْ (المدثر ۳) اور وَكَبِّرْهُ تَکْبِیرًا (الاسرار ۱۱۱)
تکبیرِ رب در اصل معرفت کا ایک بھونچال ہے جو مومن کے اندرونی وجود میں برپا ہوتا ہے ۔ یہ ایک شخصیت کا عرفانِ خداوندی سے پھٹ پڑنا ہے ، اور اللہ اکبر کا کلمہ اسی پھٹ پڑنے کا ایک لفظی اظہار ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1987 All issues