تخلیقیت
الرسالہ، جون ۱۹۸۷، صفحہ ۴
تخلیقیت
موجودہ دنیا مختلف قسم کے اسباب اور احوال سے بھری ہوئی ہے۔ یہ اسباب اور احوال ہم سے الگ وجود رکھتے ہیں اور آپ اپنے زور پر قائم ہیں۔ ہم ان سے ہم آہنگی کر کے اپنا مقصد حاصل کر سکتے ہیں ، ان کو نظر انداز کر کے منزلِ مقصود تک پہونچنا ہمارے لیے ممکن نہیں۔
اس صورت حال کے تقاضوں میں سے ایک تقاضا یہ ہے کہ آدمی کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ پیش آمدہ حالات کے اعتبار سے پورے معاملے پر از سرِ نو غور کر سکے۔ وہ مسئلہ کا نیا حل دریافت کرنے کی طاقت رکھتا ہو ۔ اسی معنی میں ایک فرانسیسی مفکر (Emile Chartier) نے کہا ہے کہ کوئی چیز اس سے زیادہ خطر ناک نہیں کہ آدمی اپنے پاس صرف ایک ہی تصور رکھتا ہو :
Nothing is more dangerous than an idea when it is the only one we have. اکثر حالات میں ایسا ہوتا ہے کہ کسی مسئلہ کے حل کے لیے ہماری ابتدائی تدبیر غیر مؤثر ہو جاتی ہے۔ ایسے موقع پر ضرورت ہوتی ہے کہ ہم اپنی سابقہ سوچ کے دائرہ سے نکل کر کوئی نئی تدبیر اختیار کر سکیں ۔ اسی صلاحیت کا نام تخلیقیت (Creativity) ہے ۔ اور اسی تخلیقی صلاحیت میں آدمی کی کامیابی کا راز چھپا ہوا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اس اصول کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ غزوہ بدر کے موقع پر آپ دشمنوں سے لڑے ۔ مگر غزوہ احزاب کے موقع پر آپ نے اپنے اور دشمن کے درمیان خندق کی رکاوٹ قائم کر دی ۔ غزوہ احد میں آپ نے اپنے مخالفین سے باقاعدہ جنگ کی اور حدیبیہ کے موقع پر جنگ کیے بغیر واپس چلے آئے۔ غزوہ حمراء الاسد میں آپ نے اعلان و اظہار کے ساتھ مارچ کیا اور فتح مکہ کے سفر میں مکمل خاموشی کا طریقہ اختیار فرمایا ، وغیرہ ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1987 All issues