امکان ختم نہیں ہوتا
الرسالہ، جون ۱۹۸۷، صفحہ ۷
امکان ختم نہیں ہوتا
ایک امریکی نوجوان ڈیوٹ ویلس (DeWitt Wallace) نے ارادہ کیا کہ وہ ایک ماہانہ ڈائجسٹ نکالے۔ اپنے والد سے اس نے ابتدائی سرمایے کے طور پر ۳۰ ڈالر مانگا۔ مگر والد نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ڈیوٹ پیسہ کو استعمال کرنا نہیں جانتا، وہ اسے ضائع کر دے گا۔ بمشکل اس نے اپنے بھائی سے کچھ رقم حاصل کی اور جنوری ۱۹۲۰ میں نمونہ کا شمارہ چھاپا جو چند سو نسخوں سے زیادہ نہ تھا۔
اب ڈیوٹ کے سامنے دوسرا مسئلہ تھا۔ اس نے اپنا میگزین نیو یارک کے پبلشنگ اداروں کو دکھایا اور کہا کہ اس کو فروخت کرنے میں وہ اس کا تعاون کریں۔ مگر تمام اداروں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ یہ میگزین بہت زیادہ سنجیدہ (Too serious) ہے اور اتنے زیادہ سنجیدہ پرچہ کے لیے مارکیٹ موجود نہیں ۔
یہ بڑا نازک مسئلہ تھا۔ کیوں کہ اخبارات و رسائل پبلشنگ اداروں ہی کے ذریعہ عوام تک بہو نچتے ہیں۔ اور پبلشنگ اداروں نے ڈیوٹ کو تعاون دینے سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم ایک امکان بدستور ابھی ڈیوٹ کے لیے باقی تھا۔ وہ یہ کہ وہ خریداروں تک براہِ راست پہونچے۔ اس نے بہت سے پتے حاصل کر کے لوگوں کو براہ راست خطوط لکھے۔ اسی کے ساتھ اس نے اخبارات میں اشتہار شائع کیا۔ عام حالات میں ایک نئے اور غیر معروف میگزین کے لیے اس طرح خریدار حاصل کرنا بظاہر ناممکن تھا۔ مگر ڈیویٹ کی ایک تدبیر نے اس ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ اس نے اپنے خطوط اور اپنے اشتہارات میں جو باتیں لکھیں، ان میں سے ایک بات یہ تھی :
The subscription could be cancelled and all money refunded if the reader wasn't satisfied (p. 163). قاری اگر میگزین کو پڑھنے کے بعد اس سے مطمئن نہ ہو تو خریدار ی ختم کر دی جائے گی اور اس کی پوری رقم اسے واپس کر دی جائے گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1987 All issues