امکان ختم نہیں ہوتا
الرسالہ، جون ۱۹۸۷، صفحہ ۸
اس پیش کش کا نتیجہ یہ ہوا کہ ڈیوٹ کے پاس خریداری کی فرمائش اور منی آرڈر آنا شروع ہوگئے ۔ پہلے ہی مرحلہ میں اس نے اتنی رقم حاصل کرلی جس سے دو ماہ کا شمارہ بہ آسانی چھاپا جاسکے ۔
ڈیوٹ کا منصوبہ کامیاب رہا ۔ کسی ایک شخص نے بھی اپنی خریداری ختم نہیں کی ۔ کسی نے بھی رقم کی واپسی کا مطالبہ نہیں کیا۔ اس نے عام خریداروں تک پہونچنے کی کوشش کو تیز تر کردیا ۔ فروری ۱۹۲۲ میں اس کا میگزین پانچ ہزار کی تعداد میں شائع ہوا تھا۔ اس کے بعد وہ برابر بڑھتا رہا، یہاں تک کہ ۱۹۷۸ء میں وہ ۲۸ ملین سے زیادہ تعداد میں دنیا کی پندرہ زبانوں میں ۳۹ ایڈیشن شائع کر رہا ہے ۔ یہ وہی ماہانہ میگزین ہے جو آج ساری دنیا میں ریڈرز ڈائجسٹ (Reader's Digest) کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ اب وہ دنیا کا سب سے زیادہ پڑھا جانے والا میگزین بن چکا ہے ۔ ۱۹۸۰ء میں ڈیوٹ اور اس کی بیوی پچاس ہزار ملین ڈالر کے مالک تھے۔ ڈیوٹ نے اپنے میگزین کے لیے اس طرح خریدار فراہم کیے کہ اس نے اپنے میگزین کو خریداروں کے لیے ”مفت“ بنا دیا ۔ ہر آدمی پیسہ ڈوب جانے کے اندیشہ کے بغیر اس کا خریدار بن سکتا تھا ۔ تاہم خود اس تدبیر کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے لیے ایک اور تدبیر ضروری تھی۔ اگر یہ دوسری تدبیر موجود نہ ہوتی تو صرف پہلی تدبیر اس کی ناکامی میں اضافہ کے سوا اسے کچھ اور دینے والی ثابت نہ ہوتی ۔
یہ دوسری تدبیر وہی تھی جس کو اعلیٰ معیار کہا جاتا ہے ۔ یعنی میگزین کو معیار کے اعتبار سے ایسا بنا دینا کہ پڑھنے کے بعد قاری کو وہ واقعہ پڑھنے کی چیز نظر آئے ۔ وہ اس کو دیکھنے کے بعد یہ سمجھے کہ اس کی خریداری کے لیے جو رقم اس نے بھیجی ہے وہ صحیح بھیجی ہے ، اور اس کو اپنی خریداری جاری رکھنا چاہیے۔
اپنے میگزین میں یہ دوسری صفت پیدا کرنے کے لیے ڈیوٹ کو غیر معمولی محنت کرنی پڑی ۔ اس کا ماہنامہ ایک ڈائجسٹ تھا ۔ یعنی مختلف مطبوعہ مضامین کا انتخاب ۔ ڈیوٹ یہ منتخب مضامین حاصل کرنے کے لیے روزانہ چالیس سے زیادہ میگزین پڑھتا تھا ۔ کچھ خرید کر اور کچھ مختلف لائبریریوں میں جاکر ۔ اس پر مشقت عمل کے لیے ڈیوٹ کو طعن و طنز بھی سننے پڑتے
‹ Previous page Next page › Contents of June 1987 All issues