Al-Risala · June 1987 · page 10

East Asia for Japan

الرسالہ، جون ۱۹۸۷، صفحہ ۱۰

اس فیصلے کے مطابق جاپان نے ۲ ستمبر ۱۹۴۵ کو اپنی شکست کے کاغذات پر دستخط کر دیے۔ اس نے جاپان کے اوپر امریکہ کی بالا دستی تسلیم کرلی۔

جاپان کے لیے یہ فیصلہ کوئی معمولی فیصلہ نہ تھا۔ جاپانی قوم اب تک ذاتی برتری کے احساس پر کھڑی ہوئی تھی ۔ اب اس کو حقیقت پسندی کے احساس پر کھڑا ہونا تھا۔ اب تک وہ بیرونی مخالف جذبات (Anti-foreign sentiments) میں جی رہی تھی اب اس کو خود احتسابی کے جذبات میں اپنے لیے زندگی کا راز دریافت کرنا تھا۔ اس وقت جاپان کی صورت حال یہ تھی کہ اس کی صنعتیں برباد ہو چکی تھیں ۔ " جنگی مجرم " جنرل میکار تھر کو معاہدہ کے خلاف جاپان کے اوپر مسلط کر دیا گیا تھا۔ کوریا، برما، سنگاپور، تائیوان اور دوسرے بیرونی مقبوضات کے علاوہ خود اپنے ملک کے کئی علاقے اس نے کھو دیے تھے مثلاً جزیرہ کرافوٹو، اوکی ناواو غیرہ ۔ ۱۹۴۶ میں "میکارتھر کانسٹی ٹیوشن " جاپان میں نافذ کیا گیا جو " بیرونی طاقت کی طرف سے ایک مفتوح قوم کو مکمل طور پر اپنے قبضہ میں " رکھنے کے لیے وضع کیا گیا تھا۔

یہ سب چیزیں بلاشبہ ناقابل برداشت کو برداشت کرنے کے ہم معنی تھیں ۔ چنانچہ جاپان کے بہت سے لوگ اس کو برداشت نہ کر سکے اور اس غم میں انھوں نے اپنے آپ کو ہلاک کر لیا۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴) کے مقالہ نگار نے اس کی تفصیل بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ فوجی انتہا پسندوں نے اس بات کی کوشش کی کہ قوم کے نام شاہ جاپان کے ریڈیائی پیغام کو نشر نہ ہونے دیں ، اور جب وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے تو متعدد قوم پرستوں اور فوجی افسروں نے بے عزتی کے احساس کے تحت خود کشی کرلی :

There were a number of suicides among the military officers and nationalists who felt themselves dishonoured (10/86). جاپان نے حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے اپنے لیے نمبر۲ کی حیثیت کو قبول کر لیا۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ وہ ہمیشہ کے لیے دوسری حیثیت پر راضی ہو گیا ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ تھا کہ طاقتور فریق سے ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے اپنے لیے تعمیر نو کا وقفہ حاصل کرنا۔ اس پالیسی کے تحت جاپان نے یہ کیا کہ اس نے سیاسی اور معاشی اعتبار سے امریکہ کی بالا دستی کو تسلیم کر لیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1987 All issues

Printed page