East Asia for Japan
الرسالہ، جون ۱۹۸۷، صفحہ ۱۱
اور اپنی تمام تو جہات سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں موڑ دیں۔ یہ عمل جاری رہا۔ یہاں تک کہ تیس سال میں تاریخ بدل گئی۔ فوجی اعتبار سے زیر دست جاپان نے اقتصادی اعتبار سے بالا دست جاپان کی حیثیت حاصل کرلی۔ جاپان نے الیکٹرانکس اور دوسرے شعبوں میں اتنی اعلیٰ درجہ کی مصنوعات تیار کیں کہ خود امریکہ کے لوگ اپنے ملک کی چیزیں چھوڑ کر جاپان کی چیزیں خریدنے لگے۔ کیوں کہ وہ کوالٹی میں امریکہ سے بہتر تھیں اور قیمت میں امریکہ سے کم ۔ اس صورتِ حال نے امریکی مد برین کو سخت پریشان کر دیا ہے۔ امریکہ کے ایک سیاسی مدبر مسٹر پیٹی ولسن (Pete Wilson) نے کہا کہ جاپان کے الیکٹرانک سامان ٹوکیو کے سواہر ایک کو برباد کر رہے ہیں : The Japanese semiconductor Godzilla is now destroying everything but Tokyo. دوسری جنگِ عظیم کے بعد جاپان امریکہ کا مقروض ہو گیا تھا۔ اب خود امریکہ جاپان کا مقروض بننے لگا۔ ۱۹۸۶ میں امریکہ کا جو سامان جاپان میں آیا ان کی قیمت ۲۶ بلین ڈالر تھی ۔ اس کے مقابلہہ میں جاپان کا سامان جو امریکہ گیا ان کی قیمت ۸۵ بلین ڈالر ہے۔ اس طرح امریکہ اور جاپان کے درمیان تجارتی توازن ٹوٹ گیا۔ ۱۹۸۶ میں امریکہ کے مقابل میں جاپان کا ٹریڈ سر پلس ۸۵ بلین ڈالر سے زیادہ تک پہنچ گیا ۔ امریکہ آج دنیا کا سب سے بڑا مقروض ملک ہے اور جاپان دنیا کا سب سے بڑا مہا جن ملک (ٹائم ۱۳ اپریل ، ۲۶ اپریل ، ۱۹۸۷) اس صورتِ حال پر آج کل کثرت سے کتابیں شائع ہو رہی ہیں۔ امریکہ میں ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام ہے جاپان نمبر ایک (JAPAN-Number One) یہ کتاب اس وقت امریکہ میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب بنی ہوئی ہے۔ ۱۹۴۵ میں جاپان نے امریکہ کے مقابلہ میں نمبر ۲ کی حیثیت منظور کر لی تھی ۔ ۴۰ سال بعد خود امریکہ کو اعتراف کرنا پڑا کہ جاپان دوبارہ نمبر ایک کا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے ۔
جاپانیوں نے اپنے ہاتھ سے " جاپان نمبر ۲ " کی کتاب لکھی، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ دوسرے لوگ ان کے بارہ میں ایسی کتاب لکھیں جس کا نام " جاپان نمبر ایک " ہو۔ یہی موجودہ دنیا کا قانون ہے ۔ یہاں جو لوگ ہار مان لیں وہی جیتے ہیں : یہاں جو لوگ پیچھے ہٹے پر راضی
‹ Previous page Next page › Contents of June 1987 All issues