Al-Risala · January 1987 · page 25

اختلاف نہیں

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۲۵

اختلاف نہیں

عن ابن مسعودٍ قال : سمعتُ رجلاً قرأ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ میں نے وسمعتُ النبي صلى الله عليه وسلم يقرأُ ایک شخص کو سنا ۔ وہ قرآن پڑھ رہا تھا۔ اور خلافَها ۔ فجئتُ به النبي صلى الله عليه وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے اس کے فاخبرتُه ۔ فعرفتُ في وجهه خلاف پڑھتے ہوئے سنا تھا۔ میں اس آدمی کو الكراهية فقال : كلاكما محسن ۔ فلا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تختّلفوا ۔ فانّ من كان قبلکم اختلفوا اور آپ کو خبر دی۔ میں نے دیکھا کہ آپ کے چہرہ فهلكو ۔ (رواه البخاری) پر ناپسندیدگی کے آثار ظاہر ہو گئے ہیں۔ آپ مشكوة المصابیح ، الجزء الاول ، صفحه ۲۷۶ نے فرمایا کہ تم دونوں ٹھیک پڑھ رہے ہو۔ پس تم لوگ اختلاف نہ کرو۔ کیوں کہ تم سے پہلے کی امتوں نے اختلاف کیا اور پھر وہ ہلاک ہوگئیں۔

قرآن کو پڑھنے کے معاملہ میں یہ اختلاف کس قسم کا تھا، اس کو سمجھنے کے لیے بطور مثال اس اختلاف کو دیکھا جاسکتا ہے جو موجودہ زمانہ میں سورہ فاتحہ میں " الضالین " کی قرات کے بارہ میں برپا ہے۔ اس قسم کے اختلاف کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلاکت کا سبب قرار دیا ۔

لفظی فرق یا جزئی اختلاف پر جھگڑنا سراسر بے دینی ہے ، خواہ وہ دین کے نام پر کی جارہی ہو۔ جب کسی قوم میں روح دین ختم ہو جاتی ہے تو اس کے اندر الفاظ اور جزئیات والے اختلاف پیدا ہوجاتے ہیں۔ یہ ایک بے حد تشویش ناک علامت ہے۔ اس قسم کی چیزوں پر ہنگامے قوم کی زندگی کا ثبوت نہیں ہیں بلکہ وہ اس کی موت کا اعلان ہیں۔ اس سے بڑا نادان اور کوئی نہیں جو اس قسم کے اختلافی ہنگاموں کو قوم کی زندگی کی علامت سمجھ لے۔

جزئی اور غیر بنیادی امور میں اختلاف کو برداشت کرنا ہی اتحاد کا واحد ذریعہ ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues

Printed page