Al-Risala · June 1987 · page 16

انسان کدھر

الرسالہ، جون ۱۹۸۷، صفحہ ۱۶

انسان کدھر

نئی دہلی کے انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس (۲۸ جنوری ۱۹۸۷) کے صفحہ اول پر ایک با تصویر خبر شائع ہوئی ہے۔ یہ ایک مجرم کی خود کشی کی خبر ہے ۔ اس میں اوپر نیچے ایک آدمی کی تین تصویریں ہیں ۔ اور اس کے نیچے یہ الفاظ درج ہیں :

ESCAPE THROUGH DEATH: The Pennsylvania State Treasurer, Mr R. Budd Dwyer, who was convicted by a federal court of conspiracy for bribery, points a pistol into his mouth (top), pulls the trigger (centre) and slumps on the floor (bottom) during a new confer- ence in his office in Harrisburg, USA, before he could be sentenced last Thursday. (AP)

فرار بذریعہ موت ــ پنسلوانیا (امریکہ) کے سرکاری خزانچی، مسٹر آربڈ ڈائر جن کوفیڈرل کورٹ نے رشوت کے لیے سازش کے معاملہ میں ملزم ٹھہرایا تھا، وہ اپنے منہ میں ایک پستول ڈالے ہوئے ہیں (اوپر کی تصویر)، وہ پستول چلا دیتے ہیں (بیچ کی تصویر) اور پھر وہ فرش پر گر پڑتے ہیں (نیچے کی تصویر)۔ یہ واقعہ ہیرسبرگ (امریکہ) میں ان کے آفس کے اندر ایک اخباری کانفرنس کے دوران اس سے پہلے پیش آیا جب کہ وہ ۲۲ جنوری کو سزا دیے جانے والے تھے ۔

اخبار نے اس خبر پر ’’موت کے ذریعہ فرار‘‘ کی سرخی قائم کی ہے ۔ لیکن زندگی کی اصل حقیقت کے اعتبار سے دیکھئے تو اس کی زیادہ صحیح سرخی یہ ہوگی : چھوٹی سزا سے بڑی سزا کی طرف فرار ۔

موت زندگی کا خاتمہ نہیں ، وہ ایک زندگی سے دوسری زندگی کی طرف جانے کا دروازہ ہے۔ یہ امتحان کے دور سے نکل کر انجام کے دور میں داخل ہونا ہے۔ کوئی انسان خود کشی کر کے اپنی امتحانی مدت کو کم کر سکتا ہے ۔ مگر یہ اس کے بس میں نہیں کہ وہ انجام کی دنیا میں داخل ہونے سے اپنے آپ کو بچالے۔ ۔ آدمی اگر اس حقیقت کو جانے تو اس کے عمل کا رُخ کچھ سے کچھ ہو جائے گا ۔ وہ آزاد زندگی کو چھوڑ کر پابند زندگی گزارے گا ۔ وہ خود کشی کے بجائے خود احتسابی کا طریقہ اپنائے گا۔ وہ انسان کی پکڑ سے زیادہ خدا کی پکڑ سے ڈرنے لگے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1987 All issues

Printed page