شریعت یا مصلحت
الرسالہ، جون ۱۹۸۷، صفحہ ۱۵
شریعت یا مصلحت
قال علی رضی الله عنه : ما ترك الناس حضرت علی رضی الله عنہ نے فرمایا کہ جب بھی لوگ شيئاً من امر دینهم لاستصلاح دنیاهم اپنی دنیا بنانے کے لیے اپنے دین کی کسی بات کو الافتح الله عليهم ما هو اضر منه چھوڑیں گے تو اللہ ان پر ایسا دروازہ کھول دے گا جو اس سے بھی زیادہ نقصان والا ہو ۔
حضرت علیؓ کے اس قول کا تعلق تمام معاملات سے ہے، خواہ وہ چھوٹا معاملہ ہو یا بڑا معاملہ خواہ اس کا تعلق انفرادی امور سے ہو یا قومی امور سے ۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ جب کسی معاملہ میں قرآن وسنت کی ایک ہدایت موجود ہو تو وہ کسی اندیشہ کے بغیر اس کو پکڑ لیں۔ قرآن وسنت کی ہدایت سامنے آجانے کے بعد ہر دوسری مصلحت باطل ہے ۔ خواہ وہ بظاہر کتنی ہی زیادہ اہم دکھائی دیتی ہو۔ مثلاً ہندوستان میں جو فرقہ وارانہ جھگڑے ہیں ان میں واضح طور پر قرآن وسنت کی رہنمائی یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے و اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہونے کی پالیسی اختیار کی جائے ۔ مگر قرآن وسنت کی یہ ثابت شدہ تعلیمات جب مسلمانوں کے سامنے پیش کی جاتی ہیں تو وہ ایک خود ساختہ مصلحت کی بنا پر ان کو اختیار نہیں کر پاتے۔ وہ مصلحت یہ ہے کہ اگر ہم جوابی عمل نہ کریں تو فریق ثانی دلیر ہو جائے گا و پہلے سے زیادہ شرارتیں کرے گا ۔
اس ملک کے مسلمان پچھلی نصف صدی سے اسی خود ساختہ طریقہ پر عمل کر رہے ہیں ۔ مگر نتیجہ بتاتا ہے کہ ان کے حق میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مذکورہ الفاظ صادق آ رہے ہیں ۔ وہ مصلحت قومی کی خاطر دین کی تعلیم کو چھوڑتے ہیں ۔ نتیجہ یہ ہے کہ شدید تر فساد برپا ہوتا ہے جو ان کے قومی مفاد کو پہلے سے بھی زیادہ تباہ و برباد کر دیتا ہے ۔
خدا اور رسول کو زیادہ بہتر طور پر یہ معلوم ہے کہ کون سا رویہ ہمارے لیے مفید ہے اور کون سا رویہ ہم کو نقصان پہنچانے والا ہے ۔ ایسی حالت میں یہ خدا اور رسول کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار ہے کہ خدا ورسول کی رہنمائی سامنے آنے کے بعد آدمی یہ سمجھے کہ کسی اور طریقہ کو اختیار کر کے وہ زیادہ فائدہ حاصل کر سکتا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1987 All issues