اعمال کے نتائج
الرسالہ، جون ۱۹۸۷، صفحہ ۱۸
اعمال کے نتائج
ایک حدیث قدسی کے مطابق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ زمانہ کو برا نہ کہو۔ زمانہ تو میں ہوں ۔ سارا معاملہ میرے ہاتھ میں ہے اور میں ہی رات اور دن کو الٹا پلٹاتا ہوں ( لاَ تَسُبُّوا الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ بِيَدِی الأَمْرُ أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ) اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے قانونِ خداوندی کے مطابق ہوتا ہے ۔ خدا ہی کے قانون کے مطابق حالات پیدا ہوتے ہیں اور خدا ہی کے حکم کے مطابق زمانہ گردش کرتا ہے ۔ ایسی صورت میں زمانہ یا حالات کو برا کہنا خود حکمِ خداوندی کو برا کہنا ہے ۔ ایسا کہنا بے فائدہ ہے اور اسی کے ساتھ سرکشی بھی ۔
نادر شاہ ایرانی نہایت ظالم بادشاہ تھا۔ اس نے ۱۷۳۹ میں دہلی پر حملہ کیا۔ دہلی پر قبضہ کرنے کے بعد اس نے اپنی فوج کو حکم دیدیا کہ جو بھی ملے اس کو قتل کر دو۔ اس قتل عام میں .... سو لوگ مارے گیے۔ اس کے بعد اس نے شہر کو لوٹنے کا حکم دیا۔ ۲۶ مئی ۱۷۳۹ء کو جب وہ دہلی سے واپس ہوا تو اس کے ساتھ لوٹ کا جو مال تھا اس کی مقدار تیس کروڑ روپے تھی ۔ سونے ، چاندی اور جواہرات اس کے علاوہ تھے ۔ شاہ جہاں کا بنوایا ہوا تخت طاؤس بھی اسی موقع پر وہ اپنے ساتھ ایران لے گیا ۔ (۳۸۵ / ۹) کہا جاتا ہے کہ دہلی والوں پر جب یہ مصیبت اور تباہی آئی تو کچھ لوگ مرزا مظہر جانِ جاناں کے پاس گئے اور کہا کہ آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہم کو نادر شاہ کے اس عذاب سے نجات دے۔ مرزا صاحب نے جواب دیا : شامتِ اعمال ما صورتِ نا درگرفت کسی قوم میں جب اخلاقی بگاڑ آتا ہے تو اس کی عملی طاقت بھی کمزور ہو جاتی ہے ۔ اس کے اندر اختلافات ابھرتے ہیں جو اس کی اجتماعی قوت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے ہیں ۔ اس کے اندر یہ مزاج پیدا ہوتا ہے کہ وہ انفرادی مفاد پر اجتماعی مفاد کو قربان کر دے۔ اپنی ذات سے بلند مقاصد کے لیے قربانیاں دینے کا حوصلہ اس کے اندر باقی نہیں رہتا۔ اس کے افراد بے اصول انسانوں کی ایک بھیڑ بن کر رہ جاتے ہیں ۔ وہ سچائی کے آگے جھکنے کے بجائے طاقت کے آگے جھکنے والے بن جاتے ہیں ۔ یہ تمام چیزیں کسی قوم کے لیے اسی طرح مہلک ہیں جس طرح لکڑی کے لیے گھن ۔ جس لکڑی کو گھن لگ جائے وہ کھڑی نہیں رہ سکتی ، اسی طرح جس قوم کے اندر یہ کمزوریاں پیدا ہو جائیں وہ تباہی اور بربادی سے محفوظ نہیں رہ سکتی ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1987 All issues