فرقہ واریت کا مسئلہ
الرسالہ، جون ۱۹۸۷، صفحہ ۱۹
فرقہ واریت کا مسئلہ
فرقہ وارانہ مسئلہ کا حل اتنا ہی آسان ہے جتنا خاندانی مسئلہ کا حل آسان ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر خاندان یک جہتی کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے ۔ اسی طرح مختلف فرقے بھی یک جہتی کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں ۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ خاندان کے مختلف افراد جس اصول کے تحت باہم مل کر رہتے ہیں ۔ اسی طرح ملک کے مختلف فرقے بھی باہم مل کر رہنا سیکھ جائیں ۔ جو اصول آج بھی خاندان کی اجتماعی زندگی میں عملاً رائج ہے اسی اصول کو خاندان سے باہر کی اجتماعی زندگی میں بھی رائج کر دیا جائے ۔ یہی کامیابی کا واحد راستہ ہے ، خاندان کے اندر بھی اور خاندان کے باہر بھی ۔ فرقہ وارانہ مسئلہ بڑے پیمانہ پر عین اسی چیز کا نام ہے جس کو چھوٹے پیمانہ پر خاندانی مسئلہ کہا جاتا ہے ۔ خاندانی مسائل مختلف رشتہ داروں کے درمیان پیدا ہوتے ہیں اور فرقہ وارانہ مسائل مختلف فرقوں کے درمیان ۔ گھر یک چھوٹا خاندان ہے اور ملک اس کے مقابلہ میں بڑا خاندان ۔ ایک اور دوسرے میں جو فرق ہے وہ صرف ڈگری کا فرق ہے ورنہ نوعیت کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں ۔
ہر آدمی جانتا ہے کہ خاندان کے اندر مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔ ایک رشتہ دار اور دوسرے رشتہ دار کے درمیان ناخوش گواریاں ظہور میں آتی ہیں ۔ ایک کو دوسرے سے قولی یا عملی تکلیف پہونچتی ہے ۔ اس کے باوجود کوئی چیز ہے جو خاندان کے مختلف افراد کو باہم جوڑے رکھتی ہے اور ان کو منتشر ہونے سے بچاتی ہے ۔ خاندانی اتحاداور یک جہتی کا جو راز ہے وہی قومی اتحاد اور ایک جہتی کا راز بھی ہے ۔ ہر شخص کو اپنے خاندان کی سطح پر جو تجربہ پیش آرہا ہے اسی تجربہ کے بہترین سبق کو وہ ملکی افراد کے معاملہ میں استعمال کرے اور پھر کبھی فساد نہیں ہوگا ۔
ہر عقل مند آدمی جانتا ہے کہ خاندانی مسائل کا سادہ حل یہ ہے کہ خاندان کے اندر ایک دوسرے کا لحاظ کرنے کی فضا پائی جائے ۔ جب کوئی مسئلہ پیش آئے تو آدمی مشتعل نہ ہو بلکہ اس پر ٹھنڈے طریقہ سے غور کرے ۔ وہ مسئلہ کو الجھانے کے بجائے سلجھانا چاہے ۔ وہ مسئلہ کو تعلقات کا خاتمہ نہ سمجھے بلکہ درمیانی مدت کا ایک وقتی واقعہ سمجھ کر اس سے گزر جائے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1987 All issues