Al-Risala · June 1987 · page 26

دورِ اول کی مثال

الرسالہ، جون ۱۹۸۷، صفحہ ۲۶

انزل من السماء ماء فسالت او دية بقدر بها اللہ نے آسمان سے پانی اتارا۔ پھر نالے اپنی مقدار فاحتمل السيل زبد اربياً ومما يوقدون کے موافق بہہ نکلے ۔ پھر سیلاب نے ابھرتے عليه في النار ابتغاء حلية اومتاع زبد جھاگ کو اٹھا لیا۔ اور اسی طرح کا جھاگ ان چیزوں مثله كذلك يضرب الله الحق و میں بھی ابھر آتا ہے جن کو لوگ زیور یا اسباب الباطل فاما الزبد فيذهب جفاء بنانے کے لیے آگ میں پگھلاتے ہیں۔ اسی طرح اللہ واما ماينفع الناس فيمكث في الارض كذلك حق اور باطل کی مثال بیان کرتا ہے۔ پس جھاگ يضرب الله الامثال ۔ تو سوکھ کر جاتا رہتا ہے اور جو چیز لوگوں کو نفع (الرعد ١٧) پہنچنے والی ہے زمین میں ٹھہر جاتی ہے اللہ اسی طرح مثالیں بیان کرتا ہے ۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا کے لیے اللہ تعالیٰ کا قانون کیا ہے ۔ وہ قانون یہ ہے کہ جو گروہ اپنے آپ کو نفع بخش ثابت کرے اس کو دنیا میں بقار اور استحکام ملے ۔ اور جو گروہ وہ اپنی نفع بخشی کھو دے وہ یہاں بے قیمت ہو کر رہ جائے ۔

اس عالمی قانون کو ایک طرف کتاب الہیٰ میں لفظی طور پر بیان کیا گیا ہے ۔ دوسری طرف مادی دنیا میں اس کا عملی مظاہرہ کیا جا رہا ہے ۔ سورہ رعد کی مذکورہ آیت میں اس نوعیت کی دو مثالیں دی گئی ہیں۔ ایک مثال بارش کی ہے ۔ بارش ہوتی ہے اور اس سے نالے بھرتے ہیں تو جھاگ اوپر دکھائی دینے لگتا ہے۔ مگر جلد ہی ایسا ہوتا ہے کہ جھاگ اُڑ ہوا میں اڑ جاتا ہے اور جو چیز اس میں نفع بخش ہے وہ باقی رہتی ہے ، یعنی پانی ۔

دوسری مثال دھات کی ہے ۔ دھات کو تپانے کے لیے جب کٹھالی میں پگھلاتے ہیں تو اس میں ابتداً اس کا میل کچیل اوپر دکھائی دینے لگتا ہے ۔ مگر بہت جلد یہ وقتی منظر ختم ہو جاتا ہے اور جو اصل قیمتی دھات ہے وہ اپنی جگہ باقی رہ جاتی ہے ۔

دورِ اول کی مثال

دورِ قدیم میں اسلام کو غیر معمولی عظمت ملی۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ تقریباً ایک ہزار سال تک اسلام کو آباد دنیا کے قائد کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ اسلام

‹ Previous page Next page › Contents of June 1987 All issues

Printed page