دورِ اول کی مثال
الرسالہ، جون ۱۹۸۷، صفحہ ۲۷
کو یہ عظیم حیثیت اتفاقا نہیں ملی اور نہ مطالبات کے ذریعہ اس کو یہ حیثیت حاصل ہوئی۔ اس کی وجہ قدرت کا وہی ابدی قانون تھا جس کا اوپر ذکر ہوا ۔ یعنی نفع بخشی اور فیض رسانی ۔ دنیا کو اسلام سے جو کچھ ملا، اس کے بہت سے پہلو ہیں۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ اسلام نے دنیا کو توہمات (Superstitions) کے دور سے نکالا اور اس کو پہلی بار سائنس کے دور میں داخل کیا۔ آج کی دنیا جس چیز کو اپنے لیے سب سے بڑی نعمت سمجھتی ہے وہ سائنس ہے۔ اور تمام محققین اور منصف مورخین نے تسلیم کیا ہے کہ یہ دراصل اسلام ہے جس نے سائنس کے دور کو پیدا کیا۔ یہاں ہم صرف ایک مغربی مصنف مسٹر بر یفالٹ کا قول نقل کریں گے ۔ وہ اس موضوع پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اگر چہ یورپی ترقی کا کوئی بھی پہلو ایسا نہیں جس میں اسلامی تہذیب کی فعال اثر انگیزی دیکھی نہ جاسکتی ہو۔ مگر وہ سب سے زیادہ واضح اس قوت کی پیدائش میں ہے جو جدید دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ یعنی طبیعی سائنس اور سائنسی اسپرٹ ۔ ہماری سائنس پر عربوں کا قرض انقلابی نظریات کی دریافت کی حد تک نہیں ہے ۔ سائنس اس سے کہیں زیادہ عرب تہذیب کی احسان مند ہے ، وہ خود اپنے وجود کے لیے اس کی مرہون منت ہے :
For although there is not a single aspect of European growth in which the decisive influence of Islamic culture is not traceable, nowhere is it so clear and momentous as in the genesis of that power which consti- tutes the permanent distinctive force of the modern world, and the supreme source of its victory—natural science and the scientific spirit. The debt of our science to that of the Arabs does not consist in startl- ing discoveries of revolutionary theories; science owes a great deal more to Arab culture, it owes its existence. Briffault, Making of Humanity, p. 190 یہ ایک معلوم تاریخی حقیقت ہے کہ قدیم زمانہ میں تمام دنیا میں شرک کا غلبہ تھا۔ تمام قومیں بے شمار دیوتاؤں کو پوجتی تھیں ۔ ہندوستانی روایات کے مطابق ان کی تعداد ۳۳ کروڑ تک پہنچ گئی تھی انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴) میں تعدد الہٰ کے عنوان کے تحت بتایا گیا ہے کہ مذاہب میں عمومی طور پر یہ بات پائی گئی ہے کہ فطرت کی طاقتوں اور فطرت کے مظاہر کو خدا مان لیا جاتا ہے ۔ نہایت آسانی کے ساتھ ان کو تین قسموں میں بانٹا جاسکتا ہے ــــ آسمانی ، فضائی اور زمینی ۔ یہی تقسیم بجائے خود ہند آریائی مذہب میں تسلیم کی گئی ہے۔ چنانچہ سورج ان کے یہاں آسمانی خدا ہے ۔ اندر فضائی خدا ہے جو
‹ Previous page Next page › Contents of June 1987 All issues