دورِ اول کی مثال
الرسالہ، جون ۱۹۸۷، صفحہ ۲۹
قرآن میں مختلف انداز سے یہ بات کہی گئی ہے کہ زمین و آسمان کی نشانیوں (مظاہر فطرت) پر غور کرو۔ قرآن میں اس قسم کی سات سو آیتیں شمار کی گئی ہیں جن میں مظاہر فطرت پر غور کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اگر بالواسطہ آیتوں بھی شامل کیا جائے تو ان کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ جائے گی۔ یہ معلوم انسانی تاریخ میں بالکل نئی آواز تھی۔ کیوں کہ اس سے پہلے انسان صرف یہ جانتا تھا کہ وہ مظاہر فطرت کو پوجے۔ ایک ایسی دنیا جس میں ہزاروں برس سے انسان صرف یہ جانتا تھا کہ مظاہر فطرت کو پوجنے کی چیز ہیں، وہاں قرآن نے یہ آواز بلند کی کہ مظاہر فطرت اس لیے ہیں کہ ان پر غور کیا جائے اور ان میں چھپی ہوئی حکمتوں کو دریافت کیا جائے۔
اسلام کا یہ پیغام صرف پیغام نہ رہا بلکہ سو سال کے اندر ہی وہ ایک عالمی انقلاب بن گیا۔ اس نے اولاً عرب کے دل و دماغ کو فتح کیا۔ پھر وہ ایشیا اور افریقہ اور یورپ تک پہنچ گیا ۔ اس نے عرب کے بت خانے ختم کردیے ایرانی اور رومی شہنشاہیتیں اس زمانہ میں شرک کی سب سے بڑی سرپرست تھیں، دونوں کو اسلام نے مغلوب کر لیا اور توحید کا غلبہ تقریباً پوری آباد دنیا میں قائم کر دیا۔ اسلام کی اس نفع بخشی کو تمام منصف مزاج مورخین نے تسلیم کیا ہے ۔ یہاں ہم انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا (۱۹۸۱ء) کا ایک پیراگراف نقل کرتے ہیں :
Islamic culture is the most relevant to European science. There was active cultural contact between Arabic-speaking lands and Latin Europe. Conquests by the Prophet's followers began in the 7th century, and, by the 10th, Arabic was the literate language of nations stretching from Persia to Spain. Arabic conquerors generally brought peace and prosperity to the countries they settled (16/368). اسلامی تہذیب کا تعلق یورپی سائنس سے بہت زیادہ ہے ۔ عربی زبان بولنے والے علاقوں اور لاطینی یورپ کے درمیان نہایت گہرا ربط قائم تھا۔ پیغمبر کے پیروؤں کی فتوحات ساتویں صدی عیسوی میں شروع ہوئیں ۔ اور دسویں صدی تک یہ حال ہو گیا کہ عربی زبان ایران سے لے کر اسپین تک کی تمام قوموں کی علمی زبان بن گئی۔ عرب فاتحین جہاں گئے وہاں عام طور پر وہ امن اور خوش حالی لے گئے۔
قرآن کے ذریعہ عالمی سطح پر جو فکری انقلاب آیا اس نے تاریخ میں پہلی بار نئی قسم کی سرگرمیاں
‹ Previous page Next page › Contents of June 1987 All issues