دورِ اول کی مثال
الرسالہ، جون ۱۹۸۷، صفحہ ۲۸
طوفان، بارش اور جنگ لانے والا ہے۔ اگنی (آگ دیوتا) زمینی واقعات کا سبب ہے : اسلام سے پہلے انسان کا حال یہ تھا کہ وہ ہر چیز کو پوجتا تھا۔ وہ سورج اور چاند سے لے کر دریا اور پہاڑ تک ہر چیز کے آگے جھکتا تھا۔ درختوں میں اس نے درخت خدا (Plant deities) اور جانوروں میں اس نے جانور خدا (Animal deities) بنا رکھے تھے۔ دنیا کی تمام چیزیں معبود بنی ہوئی تھیں ۔ اور انسان ان کا عبادت گزار ۔ اس طرح انسان نے اپنی عظمت کھو دی تھی ۔ اسلام کے ذریعہ تاریخ میں جو انقلاب آیا اس نے پہلی بار انسان کو اس کی عظمت عطا کی ۔
شرک (بالفاظ دیگر مظاہر فطرت کی پرستش کا رواج قدیم زمانہ میں سائنسی ترقیوں میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ انسان فطرت کے مظاہر کو معبود سمجھ کر انھیں تقدس کی نظر سے دیکھتا تھا۔ اس لیے اس کے اندر یہ جذبہ ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ وہ ان مظاہر کی تحقیق کرے اور ان کو اپنے فائدے کے لیے ۔ استعمال کرے ۔ فطرت کے مظاہر جب پرستش کا موضوع بنے ہوئے ہوں تو اسی وقت وہ تحقیق کا موضوع نہیں بن سکتے ۔ یہ بنیادی سبب تھا جو طبیعی سائنس کا دور شروع ہونے میں رکاوٹ بنا ہوا تھا ۔ اسلام نے تاریخ میں پہلی بار اس سبب کو ختم کیا، اس لیے اسلام کے بعد تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہو اکہ طبیعی سا ئنس کا دور شروع ہوا اور بالآخر اس حد کو پہونچا جس حد کو وہ آج پہونچا ہے ۔ آرنلڈ ٹوائن بی نے بجا طور پر لکھا ہے کہ یہ دراصل توحید (Monotheism) کا عقیدہ ہے جس نے جدید سائنس اور صنعتی دور کو پیدا کیا۔ کیوں کہ توحید کے انقلاب سے پہلے دنیا میں عملی طور پر شرک کا غلبہ تھا۔ شرک کے عقیدہ کے تحت آدمی فطرت (Nature) کو پوجنے کی چیز سمجھے ہوئے تھا۔ پھر وہ اس کو تحقیق و تسخیر کی چیز کیسے سمجھتا۔ جب کہ فطرت کو تحقیق اور تسخیر کی چیز سمجھنے کے بعد ہی اس علم کا آغاز ہوتا ہے جس کو طبیعی سائنس کہتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1987 All issues