Al-Risala · June 1987 · page 31

دورِ اول کی مثال

الرسالہ، جون ۱۹۸۷، صفحہ ۳۱

پروفیسر ہٹی نے اس سلسلہ میں مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ الزھراوی کی کتاب (التصریف لمن انجز عن التالیف) کا سرجری سے متعلق حصہ گیرار ڈ آف کریمونا نے عربی سے لاطینی میں ترجمہ کیا ۔ یورپ میں اس کے مختلف ایڈیشن چھپے ۔ وینس میں ۱۴۹۷ء میں ، بیسل میں ۱۵۴۱ میں ، آکسفورڈ میں ۱۷۷۸ء میں ۔ یہ ترجمہ صدیوں تک سلرنو اور مانٹ پیلیر اور دوسرے یورپی طبی اداروں میں نصاب تعلیم کا جزو بنارہا :

The surgical part (of Al-Zahrawi) was translated into Latin by Gerard of Cremona and various editions were published at Venice in 1497, at Basel in 1541 and at Oxford in 1778. It held its place for centuries as the manual of surgery in Salerno, Montpellier and other early schools of medicine. P.K. Hitti, History of the Arabs, 1979, p. 577 آج آپ جدید طرز کے کسی اسپتال یا کسی میڈیکل کالج میں داخل ہوں تو وہاں کی ہر چیز آپ کو مغربی تہذیب کا عطیہ نظر آئے گی ۔ مگر چند سو سال پہلے یہ حال تھا کہ آپ وقت کے کسی معیاری اسپتال یا کسی میڈیکل کالج میں داخل ہوں تو وہاں کی ہر چیز اسلامی تہذیب کا عطیہ نظر آتی تھی ۔ یہ ہے وہ بنیادی فرق جو مسلمانوں کے ماضی اور ان کے حال میں پیدا ہو گیا ہے ۔ ۲۔ جغرافیہ ایک بے حد اہم سائنس ہے ۔ اس کا تعلق زندگی کے بے شمار شعبوں سے ہے۔ دور اول کے مسلمانوں نے اس فن میں بھی کمال پیدا کیا ۔ مثال کے طور پر الادریسی اپنے زمانہ میں دنیا کا سب سے بڑا جغرافی عالم تھا ۔ پروفیسر فلپ ہٹی نے اس کی بابت حسب ذیل الفاظ لکھے ہیں : The most distinguished geographer of the Middle Ages. یعنی قرون وسطیٰ کا سب سے زیادہ ممتاز جغرافیہ داں ۔ الادریسی کے زمانہ میں راجہ دوم سسلی کا بادشاہ تھا ۔ اس کو ایک جغرافی نقشہ کی ضرورت ہوئی تو اس کو یہ نقشہ جس نے بنا کر دیا وہ یہی الادریسی تھا ۔ فلپ ہٹی نے مزید لکھا ہے :

The most brilliant geographical author and cartographer of the twelfth century, indeed of all medieval time, was al-Idrisi, a descendant of a royal Spanish Arab family who got his education in Spain. P.K. Hitti, History of the Arabs, 1979, p. 568

‹ Previous page Next page › Contents of June 1987 All issues

Printed page