دورِ اول کی مثال
الرسالہ، جون ۱۹۸۷، صفحہ ۳۲
بارھویں صدی عیسوی کا سب سے زیادہ با کمال جغرافی مصنف اور نقشہ نویس، بلکہ پورے قرون وسطی کا سب سے بڑا جغرافی عالم بلا شبہ الادریسی تھا۔ وہ اسپین کے ایک عرب خاندان میں پیدا ہوا، اور اس کی تعلیم اسپین میں ہوئی۔
انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۳) کے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ الادریسی نے ۱۱۵۴ء میں سسلی کے مسیحی حکمراں (راجردوم) کے لیے ایک عالمی نقشہ بنایا۔ اس میں ایشیائی علاقوں کی زیادہ بہتر معلومات دی گئی تھیں جو اس وقت تک ابھی انسان کو حاصل نہ ہوئی تھیں: Al-Idrisi constructed a world map in AD 1154 for the Christian king Roger of Sicily, showing better information on Asian areas than had been available theretofore (11/472). موجودہ زمانہ میں مسلم ملکوں میں مغرب کے ماہرین (Experts) بھرے ہوئے ہیں۔ مگر ایک وقت تھا جب کہ مسلمان ہر شعبہ کے ماہرین دنیا کو فراہم کر رہے تھے ۔ آج مسلمان دنیا والوں سے لے رہے ہیں، مگر چند سو سال پہلے یہ حال تھا کہ مسلمان دنیا کو دینے والے بنے ہوئے تھے۔ کیسا عجیب فرق ہے ماضی میں اور حال میں۔
۳- آج مسلم ملکوں کے نوٹ اور سکے مغربی ممالک تیار کرتے ہیں۔ اور اگر کوئی مسلم ملک خود اپنا سکہ یا نوٹ تیار کرتا ہے تو اس کے لیے بھی وہ مغربی ٹکنالوجی کا مرہون منت ہے۔ مگر ایک وقت تھا کہ یہ مقام خود مسلمانوں کو عالمی سطح پر حاصل تھا۔
پروفیسر ایچ. ڈبلیو. سی. ڈیوس (H.W.C. Davis) نے اپنی کتاب قرون وسطیٰ کا انگلستان (Medieval England) میں انگلستان کے ایک قدیم سنہرے سکہ کی تصویر اس کے دونوں رخ سے چھاپی ہے۔ یہ سکہ برٹش میوزیم میں رکھا ہوا ہے۔ تصویر میں واضح طور پر نظر آ رہا ہے کہ سکہ کے ایک طرف عربی رسم الخط میں کلمہ شہادت لکھا ہوا ہے اور دوسری طرف اس وقت کے انگلستان کے بادشاہ او فاریکس (Offa Rex) کا نام کندہ ہے۔ اسی کے ساتھ سکہ پر بغداد کے مسلمان سکےگر کا نام بھی درج ہے۔ سکہ کی تصویر کے نیچے پروفیسر ڈیوس نے حسب ذیل الفاظ لکھے ہیں: Anglo-Saxon gold coin imitating an Arab Dinar of the year 774. یعنی قدیم انگلستان کا سونے کا سکہ جو ۷۷۴ء میں ڈھالا گیا اور جس میں ایک عرب دینار کی نقل کی
‹ Previous page Next page › Contents of June 1987 All issues