اختلاف نہیں
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۲۷
پر اترا۔ کچھ لوگ ریلوے اسٹیشن کے کینٹین کی طرف جارہے تھے۔ میں بھی اس طرف چل پڑا۔ اور کینٹین کے اندر داخل ہو گیا۔ اس کے بعد جو کچھ پیش آیا اس کا صحیح علم مجھے اس وقت ہوا جب کہ میں بنگلور پہنچ چکا تھا۔
بنگلور میں کسی سڑک پر چل رہا تھا کہ اچانک ایک شخص نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے مجھے مخاطب کیا۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ میرے لیے ایک اجنبی شخص تھا۔ اس نے میری حیرت کو دور کرتے ہوئے کہا کہ میں نے آپ کو اس وقت دیکھا تھا جب کہ آپ فلاں ریلوے اسٹیشن کے کینٹین میں تھے ۔ میں بھی اسی ٹرین سے سفر کر رہا تھا اور اس وقت اس کینٹین میں موجود تھا۔ اس نے کہا کہ آپ جب کینٹین کے اندر داخل ہوئے تو آپ ڈگمگا رہے تھے، اور بھری ہوئی کرسیوں پر لوگوں کے اوپر بیٹھ رہے تھے۔ آخر کار ایک شخص نے آپ کو پکڑ کر ایک خالی کرسی پر بٹھایا ۔ اس کے بعد آپ کی میز پر کھانا رکھا گیا تو آپ نے کچھ کھایا اور کچھ چھوڑا اور پھر کوئی بڑا نوٹ دے کر واپس جانے لگے۔ اس وقت کینٹین والے نے روک کر آپ کو بقیہ پیسے ادا کیے۔
یہ قصہ بتانے کے بعد مذکورہ آدمی مسکرایا۔ اس نے کہا کہ "ہم لوگ اس وقت یہ سمجھے کہ آپ پئے ہوئے ہیں اور اس کی وجہ سے اپنے ہوش میں نہیں ہیں" میں نے اس آدمی سے کچھ نہیں کہا مگر میں جانتا تھا کہ اصل وجہ کیا ہے۔ اصل واقعہ یہ تھا کہ مسلسل فاقہ کی وجہ سے مجھے چکر آ گیا تھا اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جانے کی وجہ سے مجھے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا بنگلور کے لیے میرا دوسرا سفر فروری ۱۹۷۰ء میں ہوا۔ اس وقت مجھے "دینی تعلیمی سمینار" میں صدر کی حیثیت سے بلایا گیا تھا ۔ اس موقع پر بنگلور میں میری کئی تقریریں ہوئی تھیں۔ اس سفر کی تفصیلی روداد اسی زمانہ میں ہفت روزہ (الجمعیتہ دہلی) ۸ مارچ ، ۲۰ مارچ ، ۲۷ مارچ ۱۹۷۰ء میں شائع ہوئی تھی ۔ ایک تقریر میں میں نے کہا تھا:
جنوبی ہند کا علاقہ ابھی تک اس فرقہ وارانہ تشدد سے محفوظ ہے جو شمالی ہند کے علاقہ میں عام طور پر دکھائی دیتا ہے۔ یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ قدرت نے جنوبی ہند کے رہنے والوں کے لیے ایک امکان مقدر کیا تھا جس کو انھوں نے اب تک استعمال نہیں کیا۔ مجھے ایسا محسوس
‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues