Religious Harmony: Problems and Possibilities
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۲۸
ہوتا ہے کہ جس طرح ، ۱۹۴۷ سے پہلے آزادی کی لڑائی میں قائدانہ رول شمالی ہند کے لیے مقدر تھا اسی طرح ، ۱۹۴۷ کے بعد ملک کی نئی تعمیر کے سلسلہ میں قائدانہ رول جنوبی ہند والوں کے لیے مقدر ہے۔ کیوں کہ اپنے حقیقت پسندانہ مزاج اور غیر اختلافی روایات کی بنا پر وہی اس طرح کے تعمیری کام کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔ مجھے یہ دیکھ کر دُکھ ہوتا ہے کہ جس طرح اس علاقہ کے غیر مسلم اپنی مخصوص حیثیت کا شعور نہیں رکھتے اسی طرح اس علاقہ کے مسلمان بھی اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں آپ کو جو مواقع حاصل ہیں ان سے فائدہ اٹھا کر آپ پورے ملک کے لیے روشنی کا مینار بن سکتے ہیں۔ جنوبی ہند کے مسلمانوں کو وہ چیز حاصل ہے جس سے شمالی ہند کے مسلمان اپنے کو محروم محسوس کرتے ہیں۔ اور وہ احساسِ تحفظ (Sense of security) ہے۔ یہ چیز جو یہاں آپ کو حاصل ہے اس کو جانیے اور اس کو استعمال کیجئے۔ اس طرح آپ پورے ملک کے مسلمانوں کو نیا حوصلہ دینے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ (الجمعیتہ ویکلی ۶ مارچ ۱۹۷۰)
بنگلور کے لیے میرا تیسرا سفر ستمبر ۱۹۸۳ میں ہوا۔ یہ سفر حلقہ الرسالہ کی دعوت پر تھا۔ اس سفر کی رپورٹ ماہنامہ الرسالہ مارچ ۱۹۸۴ میں شائع ہو چکی ہے۔ میرا چوتھا سفر عالمی مذہبی کونسل (Council for the World's Religions) کی دعوت پر ہوا۔ یہ مختلف مذاہب کی ایک بین اقوامی کونسل ہے جس کا صدر دفتر نیویارک (امریکہ) میں ہے۔ اس کے تحت بنگلور میں ایک کانفرنس ہوئی ۔ اس میں مختلف مذاہب کے نمائندے شریک ہوئے ۔ اس کانفرنس کا موضوعِ بحث یہ تھا :
Religious Harmony: Problems and Possibilities
اس کانفرنس کے موقع پر مجھے مقالہ پیش کرنے کی دعوت دی گئی تھی، اسی سلسلہ میں میرا یہ سفر ہوا۔ کانفرنس کے موقع پر میں نے جو مقالہ (انگریزی) پیش کیا ۔ اس کا عنوان تھا داعی کی اخلاقیات :
Missionary Ethics
یہ مقالہ انشاء اللہ الرسالہ انگریزی میں شائع کر دیا جائے گا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues