روحانی تسکین
الرسالہ، جون ۱۹۸۷، صفحہ ۲۳
"ذہین کائنات" نامی کتاب کا مصنف فریڈ ہائل اپنے قیمتی مطالعہ کا خاتمہ ان الفاظ پر کرتا ہے کہ اگر زمین کو کسی مزید اہمیت کا حامل بننا ہے، اور انسان کو کائنات کی اسکیم میں کوئی جگہ پانی ہے تو ضرورت ہوگی کہ ہم افادیت کے نظریہ کو مکمل طور پر ترک کر دیں۔ اگرچہ میرا خیال ہے کہ قدیم طرز کے مذہبی نظریات کی طرف واپسی کچھ مفید نہ ہوگی، مگر ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایسا کیوں ہے کہ ویلس کے تشریح کے مطابق پر اسرار تقدس ہمارے اندر موجود رہتا ہے اور فردوسی دنیا کی طرف ہمیں اشارہ کرتا ہے کہ کیا ہم اس کی پیروی کریں گے :
حقیقت یہ ہے کہ مذہب انسان کی سرشت میں داخل ہے۔ وہ مذہب کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ آج کا انسان بھی اتنا ہی زیادہ مذہب کا ضرورت مند ہے جتنا قدیم زمانہ کا انسان تھا۔ مزید یہ کہ سائنس کی طرف سے مایوسی نے اس کو مزید شدت کے ساتھ مذہب کا مشتاق بنا دیا ہے ۔ مگر جدید انسان کی مشکل یہ ہے کہ وہ مذہب کے نام سے جس چیز کو جانتا ہے وہ صرف بگڑے ہوئے مذاہب ہیں۔ اور بگڑے ہوئے مذاہب کے ساتھ انسانی فطرت کو مطابقت نہیں۔ جدید انسان جب اندرونی تقاضے سے مجبور ہو کر مذہب کے بارہ میں سوچتا ہے تو اسی بگڑے ہوئے مذہب کی تصویر اس کے سامنے آ جاتی ہے۔ وہ مذہب سے قریب ہو کر دوبارہ مذہب
‹ Previous page Next page › Contents of June 1987 All issues